Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

نہر سوئز۔۔مشرقی دُنیا کو مغربی دُنیا سے ملانے کا ذریعہ

عالمی تجارت کا 90 فیصد انحصار سمندری راستوں پرہے۔۔
نہر سوئز کی تجارت کے ساتھ اسٹرٹیجک اہمیت بڑھتی جارہی ہے، عالمی طاقتیں سمندروں پر کنٹرول کرنے اور اپنی نیول فورسز کو ایک خطے سے دوسرے خطے میں فوری پہنچانے کیلئے انہی آبی گزرگاہوں کا استعمال کرتی ہیں
نورین چوہدری
عالمی تجارت کا 90 فیصد انحصار سمندری راستوں پر ہے۔ نہر سوئز مشرقی دُنیا کو مغربی دنیا سے ملانے کی آبی گزرگاہ ہے۔ یہ بحیرۂ روم کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے۔ 193 کلومیٹر طویل اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی تین سو سے تین سو پینتالیس میٹر اور گہرائی چالیس میٹر ہے۔ قدیم زمانے میں دو سمندروں کو جوڑنے کے لئے دریائے نیل سے نہر کھودی گئی لیکن اُس زمانے کے محدود اہداف کو سامنے رکھ کر منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر کو ملانے کا تصور قدیم زمانے سے تھا۔ 1874 قبل مسیح میں ”سنوسرت سوم“ کے دور میں اس نہر کی تعمیر چھوٹے پیمانے پر کی گئی۔ پھر کچھ صدیوں کے بعد عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں اسے کشادہ کیا گیا۔ فرانسیسی مہم کے دوران نیپولین نے نہرسوئز کی ازسرنو کھدائی کے تصور کے ساتھ ماہرین کی معاونت میں  نہر کا معائنہ کیا۔ اس وقت کے صدر جیکس میری لیپیری (Jacques Marie Lpere) نے اس منصوبے کو یکسر مسترد کردیا، کیونکہ بحیرۂ احمر مڈٹیرین سی سے بلند تھا۔ صدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ دونوں  سمندروں  کو ملانے کے لئے کھدائی کی گئی تو مصر زیرآب آسکتا ہے لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ 1854ء میں  فرڈینینڈ ڈی لیسپس مصر میں بطور سفیر تعینات ہوا، جو انجینئر تھا، اس وقت مصر میں سعید پاشا گورنر تھے۔ سفیر کے پاس Linantde Bellefonds کا نہر سے متعلق تیارکردہ نقشہ موجود تھا۔ فرانسیسی سفیر نے سعید پاشا کو قائل کرلیا۔ یوں فرانسیسی سفیر اور مصری گورنر سعید پاشا کے درمیان 12 نکاتی 99 سالہ معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے تحت مصری حکومت نے سبس کمپنی کو نیوی گیشن کے لئے ایک نہر کھودنے کی اجازت دی، جس سے مزید دو نہریں نکالی جانی تھیں، اس کا ایک مقصد آب پاشی جبکہ دوسرا میٹھے پانی کی فراہمی کے لئے تھا۔ نہر سے ہونے والی آمدنی میں مصری حکومت کا حصہ 15 فیصد رکھا گیا جبکہ منصوبے میں مصری مزدوروں کے کام کا کوٹہ 80 فیصد تھا۔ 1956ء میں نہر سوئز کی 99 سالہ مدت ختم ہونے پر مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہرسوئز کو قومی تحویل میں لے لیا۔ جس پر مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہوگئی۔ اس جنگ میں  برطانیہ اور فرانس نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ تنازع کے ساتھ مصریوں میں فرانس کے خلاف بھی اتنا غم وغصہ پیدا ہوا کہ انہوں نے بورسعید شہر میں نہرسوئز کی کھدائی کے منصوبہ ساز فرڈینینڈ ڈی لیسپس کا مجسمہ توڑ ڈالا۔
جدید زمانے میں ہدف یہ رکھا گیا کہ بحرۂ احمر کو بحیرۂ روم سے دریائے نیل کی نہر کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست ملایا جائے۔ 19ویں صدی کے وسط میں فرانسیسی سفارتکار فرڈینینڈ ڈی لیسپس نے منصوبہ تیار کیا لیکن برطانیہ نے فرانس کی مخاصمت میں اس نے منصوبہ کی مخالفت کی مگر مصری حاکم خدیو سعید پاشا نے اس کی اجازت دے دی۔ یوں 25 اپریل 1859ء کو کام شروع ہوگیا۔ تقریباً  15لاکھ مزدوروں کی محنت سے 10 سال میں منصوبہ مکمل ہوا۔ اس طرح 1869ء کو اس آبی گزرگاہ کو آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا۔ اس نہر کی تعمیر سے قبل بحری جہازوں کو برطانیہ سے جنوبی ایشیا کے ملکوں پاکستان اور بھارت تک 4 ہزار ناٹیکل مائل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا، جو اس نہر کی تعمیر کے بعد کم ہوگیا۔ اگرچہ سوئز کینال مصر کی ملکیت تھی لیکن اس پر کنٹرول برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کا تھا۔ 1956ء میں مصر نے نہر سوئز کو قومیا لیا، جس پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل مصر پر حملہ آور ہوگئے۔ اس جنگ میں  مصر کے تقریباً 40 جہاز ڈوبو دیئے گئے۔
امریکا اور روس نے اقوام متحدہ کے ذریعے مداخلت کرکے برطانیہ اور اس کے اتحادی ملک کو نہرسوئز چھوڑنے پر مجبور کیا۔ یہ آبی گزرگاہ مصر کے لئے نہ صرف تزویراتی بلکہ معاشی اہمیت کی حامل بھی تھی۔ 1967ء میں 5 سے 10 جون تک 6 روزہ جنگ کے دوران ایک مرتبہ پھر سوئز کینال بند رہی، پھر 1973ء میں 6 سے 25 اکتوبر کی اس خطے میں ہونے والی جنگ میں بھی اس آبی گزرگاہ سے جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد تھی۔ جنگ کے علاوہ بھی دو مختلف مواقعوں پر جہازوں کے پھنس جانے کی وجہ سے نہر سوئز آمدورفت کے لئے بند کی جاچکی ہے۔ 23 مارچ 2021ء میں چین سے نیدرلینڈ کی بندرگاہ رائٹر ڈیم جانے والا ایورگرین نامی جہاز تکنیکی خرابی کے باعث پھنس گیا تھا۔ جہاز کی چوڑائی 60 میٹر تھی۔ کپتان کے مطابق تیز سمندری ہوا کے باعث جہاز کا رخ مڑ گیا، جس کے باعث مال بردار بحری جہازوں کی آمدورفت 29 مارچ تک بند رہی تھی۔ مصر، ہالینڈ اور اٹلی کے 14 ٹگ بوٹس کی مدد سے جہاز کو ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ سامان ان لوڈ کرکے 7 دنوں کی محنت کے دوران جہاز کا رخ 80 فیصد موڑا گیا اور کھدائی بھی کی گئی۔ ان 7 دنوں  میں  تجارتی آمدورفت بند ہونے کے باعث اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ مصری حکومت نے جہاز چلانے والی کمپنی ایورگرین مرین کارپس سے اربوں ڈالر کا نقصان پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ طویل مذاکرات کے بعد کمپنی نے سوئز کینال اتھارٹی کو 550 ملین ڈالر ادا کئے۔ 2017ء میں بھی ایک جاپانی جہاز کے پھنس جانے کے باعث آمدورفت میں  خلل پیدا ہوا۔ جسے چند گھنٹوں  میں  ہی بحال کردیا گیا۔
نہرسوئز سے تجارتی جہازوں  کے ٹریفک میں  اضافے کے باعث جون 1958ء میں مصر نے نہر کو وسعت دینے کے منصوبے کی منظوری دی۔ جسے پروجیکٹ ناصر کا نام دیا گیا۔ اس کے پہلے مرحلے میں نہر کی مزید کھدائی کرکے اس کی گہرائی کو بڑھانا تھا تاکہ بحری جہازوں  کے ہل 35 فٹ کے بجائے 37 فٹ تک پانی کے اندر ہوں۔ دوسرا مرحلہ شپنگ لین کو مزید 40 فٹ گہرا کرنا تھا جبکہ تیسرے مرحلے میں نہر کو چوڑا کرنا یا ایک متوازی نہر کھودنے کا منصوبہ تھا تاکہ دوطرفہ جہازوں کے گزرنے میں آسانی ہو۔ اس سے سمندری ٹریفک میں تیزی کے ساتھ ساتھ مصر کی آمدنی میں بھی اضافہ ہونا تھا۔ مصری حکومت نے عالمی بینک سے منصوبے کی تعمیر کے لئے 120 سے 200 ملین پاؤنڈ اسٹرلنگ کی درخواست کی۔ قاہرہ کے برطانوی سفارت خانے نے اپنی حکومت کو قرضہ کی درخواست سے متعلق آگاہ کیا۔ برطانوی حکومت کا خیال تھا کہ نہر میں توسیع یا ایک اور راہداری کے بننے سے مصر کا خطے میں اثرورسوخ بڑھ جائے گا۔ مصر کسی بھی وقت سیاسی، معاشی، تزویراتی اور عسکری اہداف کے حصول کے لئے استعمال کر پائے گا۔ قرض کی درخواست مسترد کروانے کے لئے برطانیہ نے جولائی 1958ء میں کینیڈا کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ اسی طرح امریکا کو بھی قائل کرلیا گیا جبکہ مارچ 1959ء میں  عالمی بینک کے نمائندے لوجین بلیک نے بتایا کہ 6 ماہ قبل منصوبے پر 7 بولیاں لگ چکی تھیں لیکن برطانیہ نے غیرضروری خدشات کے باعث قرض کی منظوری رکوا کر توسیع منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ پھر 6 اگست 2015ء میں  مصر نے نہرسوئز کے ساتھ ایک اور نہر کھودنے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ 8 بلین 20 کروڑ ڈالر کی لاگت سے 35 کلومیٹر کی متوازن آبی گزرگاہ کا منصوبہ 2014ء میں بنا تھا، جو چند سال میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر کے دوران تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار مزدوروں کی اموات ہوئیں۔ سوئز کینال اتھارٹی کے مطابق 2021ء میں اس نہر سے 20 ہزار سے زائد جہازوں کی آمدورفت ہوئی جبکہ 2020ء میں 19 ہزار 311 جہازوں  نے آنا جانا کیا تھا، جس کے بعد سوئز کینال سے 13 بلین 20 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہونے لگی۔ جس میں  121کروڑ ٹن کارگو تھا۔ عالمی تجارت میں نہر سوئز کا حصہ 15 فیصد بنتا ہے۔ 2023ء میں  یومیہ 97 بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے جس میں  مزید اضافہ ہوا ہے۔ یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل اسی نہر سے گزرتا ہے۔ نہر سوئز کی تجارت کے ساتھ اسٹرٹیجک اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ عالمی طاقتیں سمندروں پر کنٹرول کرنے اور اپنی نیول فورسز کو ایک خطے سے دوسرے خطے میں فوری پہنچانے کے لئے انہی آبی گزرگاہوں کا استعمال کرتی ہیں۔

مطلقہ خبریں