Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

بھارت اور امریکا کا 320 ارب روپے کا فوجی معاہدہ

بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ۔۔
اس معاہدے سے بھارتی مسلح افواج کی نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، دونوں ملکوں نے 31 پریڈیٹر ڈرون طیاروں کے حصول کے ساتھ ساتھ بھارت میں ان کی مینٹیننس، مرمت اور اوور ہال کے لئے یہ معاہدہ کیا ہے

زاویہئ نگاہ رپورٹ
بھارت کے جنگی جنون میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس نے امریکا سے 31 پریڈیٹر ڈرون کے حصول کے لئے 32 ہزار کروڑ روپے مالیت کا معاہدہ کیا ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے ”انڈیا ٹوڈے“ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب ایک ماہ قبل ہونے والی چار ممالک کی کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔ دونوں ملکوں نے 31 پریڈیٹر ڈرون طیاروں کے حصول کے ساتھ ساتھ بھارت میں ان کی مینٹیننس، مرمت اور اوور ہال کے لئے 32 ہزار کروڑ (بھارتی روپے) مالیت کا معاہدہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے سے بھارتی مسلح افواج کی نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور اس کی کل مالیت بڑھ کر 34 ہزار 500 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس منصوبے کی بھارتی کابینہ کمیٹی برائے سیکیورٹی نے منظوری دی تھی جس کے تحت 15 ڈرون بھارتی بحریہ کو دیئے جائیں گے جبکہ بقیہ 16 ڈرون آرمی اور فضائیہ میں برابر تقسیم ہوں گے۔ بھارت کئی سالوں سے امریکا سے اس معاہدے کے حوالے سے بات چیت کررہا تھا لیکن چند ہفتوں قبل ڈیفنس ایکویسیشن کونسل کے اجلاس میں اس کی منظوری دی گئی کیونکہ اس کی 31 اکتوبر سے قبل منظوری ملنا ضروری تھی ورنہ امریکی پرپوزل کی تاریخ گزر جاتی۔ بھارت ممکنہ طور پر ان ڈرونز کو چار مقامات شنئی، گجرات، سرساوا اور گورکھ پور میں موجود اڈوں پر رکھے گا۔ امریکا نے ان 31 ڈرونز کی بھارت کو فروخت کی منظوری رواں سال فروری میں دی تھی جہاں یہ ڈرونز 442 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 ہزار فٹ کی بلندی کے ساتھ ساتھ محض 250 میٹر کی اونچائی پر بھی اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ڈرونز کسی بھی موسم میں پرواز کرنے کے ساتھ ساتھ فضا سے زمین اور فضا سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت کے حامل ہیں۔ MQ-9B اسکائی گارڈئین اور سی گارڈئین ہائی الٹیٹیوڈ لانف اینڈورینس (HALE) ڈرونز 2 ہزار میل تک ایندھن بھرے بغیر پرواز کرنے کے ساتھ بم اور میزائل سمیت 1700 کلوگرام کا وزم بھی اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ ڈرونز کے حصول سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ بھارت کی سرویلنس اور انٹیلی جنس صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ امریکا کی جانب سے اس معاہدے کے تحت بھارت کو روسی فوجی اسلحہ خریدنے سے دور رکھنے اور خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی برتری کو روکنے کے لئے تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا سے خریدے جانے والے ڈرونز بھارت کی بحریہ بحیرۂ ہند کے علاقوں میں استعمال کرے گی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے روایتی حریف چین اور پاکستان کے پاس مؤثر ایئرڈیفنس سسٹم موجود ہے جو بھارت کی زمینی سرحد کے ساتھ ڈرونز کے استعمال کو محدود کرسکتا ہے۔

مطلقہ خبریں