Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

کتاب نقوشِ دوراں (خود نوشت)

تبصرہ: میر افسر امان
میری ذاتی لائبریری میں گاہے بگاہے کتابوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے، کبھی مطالعہ کے دوران کسی کتاب کا ذکر آئے اور مجھے پسند آئے تو میں اپنے جاننے والے کسی کتب خانے کو فون کرکے منگوا لیتا ہوں۔ آج ہی فیس بک پر مکتبہ قدسیہ لاہور نے غزہ کے شہید یحییٰ ٰ السنوار کی عربی میں لکھی کتاب ”الشوک و القرنفل“ کے اُردو ترجمہ، جو ہندوستان میں ہوا ہے خریدنے کے آڈر بک کیا۔ کبھی کوئی دوست نئی کتاب لکھتا ہے تو بھی مجھے تبصرے کیلئے بھیج دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک کتاب ”نقوشِ دوراں“ (خودنوشت) کتاب میرے محترم دوست محمد کلیم اکبر صدیقی نے ایک ماہ پہلے بھیجی تھی۔ تکرار کی کہ جلد اس کتاب پر تبصرہ لکھوں۔ مصنف اور ان کے صدیقی خاندان سے میرا تعلق ۲۸۹۱ء میں قائم ہوا۔ میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے ملازم، ایریا منیجر کی حیثیت کراچی سے ملتان ٹرانسفر ہوا تو ملتان کی گلگشت کالونی میں رہائیش اختیار کی کیونکہ میرا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ صدیقی خاندان کے بڑے محمد عقیل صدیقی جو ملتان شہر کے امیر بھی رہے ہیں سے جماعت کے تنظیمی اور دیگر پروگراموں میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اکبر صدیقی کے والد محمد جمیل صدیقی نے گلگشت کالونی میں مسجد نور کی بنیاد رکھی تھی، مسجد نور میں نمازوں کے دوران بھی صدیقی برادران سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی۔ یہ پورا خاندان جماعت اسلامی میں شریک رہا ہے۔ ”نقوش دوراں“ خودنوشت کتاب میں اکبر صدیقی صاحب نے اپنے پورے صدیقی خاندان، جس میں دادا جان سے لے کر خود اپنے اُولاد تک کے حالات قلمبند کئے ہیں۔ صفحہ نمبر۱ تا ۲۱ تک حسن ترتیب کے بعد، صفحہ نمبر۳۱ تا۶۴ تک ان کے نصف درجن سے زیادہ دوستوں کی طرف سے کتاب ”نقوش دوراں“ پر تعارفی کلمات ہیں۔ صفحہ ۷۴ سے۷۲۱ تک دادا جان سے لے کر اپنی چھوٹی ہمشیرہ تک، سارے صدیقی خاندان کا تعارف قلمبند کیا ہے۔ صفحہ ۹۲۱ تا۳۸۳ تک اپنی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالی ہے۔ آخری صفحہ ۳۸۴ پر اختتامیہ میں اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس کتاب کو شوق سے پڑھوا دے۔ اس کتاب میں اکبر صدیقی صاحب کی خودنوشت کے ساتھ ساتھ پورے صدیقی خاندان کے حالات ملتے ہیں، اس کے علاوہ یہ کتاب ایک منفرد کتاب ہے کہ اس میں متعلقہ شخصیات کے فوٹو اور اخبارات میں شائع ہونے والے تصاویروں کے فوٹو اسٹیٹ بھی ثبت کئے گئے ہیں۔ ملتان اور پورے ملک میں جماعت اسلامی کے اسلامی نظام حکومت کی جد وجہد کے بارے میں تفصیلات درج ہیں۔ اکبر صدیقی صاحب صفحہ نمبر ۷۴لکھتے ہیں، نصف صدی پہلے والدین اپنی اولاد کو خاندانی بزرگوں کے نام،،تعلق ورشتہ کے بارے آگاہ کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے تقریباً ہر فرد کو قریب اور دور کے رشتہ داروں کے بارے علم ہوتا تھا لیکن اب اس کا اہتمام بہت کم ہوگیا ہے جس وجہ سے بچوں کو پردادا تو کیا دادا، دادی، نانا، نانی کا نام معلوم نہیں ہوتا۔ لکھتے ہیں اس وقت میرے دادا مرحوم کی تیسری نسل چل رہی ہے، میں اسی تیسری نسل کا فرد ہوں، جس کا میں تذکرہ کروں گا۔ آگے ہمارے خاندان کا ہر فرد اپنے یونٹ کی تفصیل درج کرلے۔ البتہ اپنے والد کے یونٹ کا جہاں تک ممکن ہے تفصیلی ذکر کروں گا۔ یہ شجرہ نسب کے رواتیی انداز (faimly tree) میں نہیں بلکہ سطروار بیانیہ انداز میں ہوگا تاکہ موجودہ نسل کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ کتاب میں اکبر صدیقی کے دادا جان، اُن کے تین بھائی، دو بہنوں کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر اپنے والد اور اس کے خاندان کے سارے افراد، جن میں اکبر صدیقی سمیت پانچ بھائی چار بہنوں کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد صفحہ ۹۲۱ میں ”بیان میرا اپنا“ میں زندگی کی روداد بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں میرا تعلق کسی زمیندار، جاگیردار یا دولتمند، کاروباری خاندان سے نہ ہے، نہ ہی کسی نسل درنسل حکمرانی کرنے والے خاندان سے کہ وراثتاً قومی رہنما قرار پاتا بلکہ میرا تعلق ایسے خاندان سے ہے جس میں صدیوں سے تعلیم، تربیت اور دین سے عملی تعلق کا سلسلہ جاری ہے اور خاندان نے ہمیشہ سفیدپوشی کے ساتھ عزت آبرو کی زندگی گزاری۔ جیساکہ پہلے عرض کیا ہے اکبر صدیقی سمیت پورے صدیقی خاندان کا تعلق دنیا کی مشہور ومعروف ومنظم ترین دینی وسیاسی جماعت ”جماعت اسلامی“ سے ہے۔ یہاں تک اکبر صدیقی کا تعلق ہے تو وہ فروری۷۴۹۱ء میں قیام پاکستان سے چھ ماہ پہلے پیدا ہوئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے فعال کار کن رہے۔ جماعت اسلامی کے بھی فعال رکن ہیں۔ شہر ملتان جماعت اسلامی کے سیکریٹری بھی رہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سیدابواعلیٰ مودودیؒ سے لے کر موجودہ امیر انجنیئرحافظ نعیم الرحمان سے ملاقاتوں کا ذکر اس کتاب میں کیا ہے۔ لکھتے ہیں جب مولانا مودددیؒ ملتان تشریف لائے تو ان کے گھر گلگشت کالونی تشریف لائے تو ان کی خدمت کرنے بھی موقعہ ملا۔ اس ملاقات کی تصاویر کے فوٹو بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔ پیپلزپارٹی کے دور اور معاہدہ تاشقند کے متعلق بھی لکھا۔ ملتان شہر میں  طلبہ کا ایک جلوس جوکہ پُرامن تھا،کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جلوس آمریت اور قومی وقار کے منافی معاہدے کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔کوئی ہنگامہ یا توڑ پھوڑ نہ تھی۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے شاہ پرستی کے شوق میں فائرنگ کا حکم دیا۔ پولیس نے نشانہ لے کر فائر کیا اور ایک طالب علم ”جودت کامران“ کو شہید کردیا۔ اس پر مشہور شاعر حبیب جالب کی نظم ”بچوں پر گولی چلی“ جس کا آخری شعر ہے:۔ ”بچوں پر گولی چلی۔۔۔ ماں دیکھ کر یوں بولی“ اس کتاب میں شامل کی ہے۔ اکبر صدیقی نے ملت ہائی اسکول ملتان سے میٹرک، گورنمنٹ کالج بوسن روڈ سے ایف اے، اسلامیہ کالج کراچی سے بی اے، اُردود لاء کالج کراچی سے ایل ایل بی اور کراچی یونیورسٹی سے ایم اے سماجی بہبود کیا۔ اس کے بعد اکبر صدیقی نے پبلک سروس کمیشن پاس کیا۔ کبیر والا میں بطور سوشل ویلفیئر آفیسر کی نوکری ملی۔ ترقی پاکر سوشل ویلفیئر آفیسر سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بن گئے۔ ۵۲ سال ملازمت کے بعد۳۰۰۲ء میں ریٹائرمنٹ لے لی۔ اسکول،کالج، یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران جمعیت کے فعال کارکن رہے۔ ملازمت اور ریٹائمنٹ کے بعد ساری زندگی جماعت اسلامی کے ساتھ رکن کی حیثیت سے گزر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے تربیت کی وجہ سے مسجد نور گلگشت کالونی ملتان میں اذان، جمعہ کے روز تقریر، مسجد کی صفائی اور دیگر معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔ ۰۶ سال سے جماعت اسلامی کیلئے کھالیں اکٹھی کرنے کی مہم میں شامل رہے ہیں۔ سماجی خدمات بھی ادا کرتے ہیں جس کی تفصیل اس کتاب میں موجود ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماؤں کی طرف سے تعریفی خطوط کے فوٹو اسٹیٹ بھی کتاب میں لگائے ہیں۔ کتاب ”نقوش دوراں“ سے قبل دو کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ ایک ”رہنمایاں جماعت اسلامی اور اس کے مثالی کارکن“ دوسری ”واقعاتی تاریخ جماعت اسلامی“ اس کے علاوہ دو پمفلٹ ایک بعنوان ”حالیہ عوامی انقلابات اور پاکستانی قوم“ دوسرا ”مختصر تاریخ مسجد نور گلگشت کالونی ملتان“ ہیں۔ ان کتابوں اور پمفلٹ کو ترجمان القرآن، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، رسالہ ایشاء، فرائیڈے اسپیشل اور المنیر فیصل آباد نے شائع کیا۔ مصنف نے اس کتاب میں اپنی ذاتی زندگی مثلاً دانت صفائی، غسل، حجامت، سلام، لباس، کھانا اور قرض سے اجتناب کا اور دیگر امور کا بھی ذکر کیا ہے۔

مطلقہ خبریں