Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

انسانیت کو نقصان پہنچانے والے ہتھیاروں کی عالمی صنعت

پوری دُنیا میں صرف 10 ممالک کی ہتھیاروں کے کاروبار پر اجارہ داری ہے جن میں امریکا سرِفہرست ہے

ریحان خان
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2023ء کے دوران جاری تنازعات خصوصاً یوکرین، روس اور اسرائیل، حماس جنگوں کا سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی امریکی کمپنیوں کو ہوا جنہوں نے دنیا بھر میں فروخت ہونے والا 50 فیصد جنگی سامان فروخت کیا۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دفاعی صنعت کے ماہرین کے خیال میں پوری دُنیا میں صرف 10ممالک کی ہتھیاروں کے کاروبار پر اجارہ داری ہے جن میں امریکا سرِفہرست ہے جبکہ باقی ممالک میں چین، روس، فرانس، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، اسرائیل، جنوبی کوریا اور اسپین شامل ہیں۔ سپری کے مطابق اِن ممالک سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کا ہتھیاروں کی عالمی منڈی پر90 فیصد کنٹرول ہے۔ بین الاقوامی تحقیقی ادارے نے انکشاف کیا کہ گذشتہ برس امریکی کمپنیوں نے 317 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے تھے،امریکہ کے بعد اِس فہرست میں دوسرے نمبر پر چین ہے جس کی کمپنیوں نے گذشتہ برس130 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے۔گزشتہ سال ہتھیار بنانے والی دنیا کی پہلی 100 کمپنیوں نے 632 ارب ڈالر کا جنگی ساز و سامان فروخت کیا جو کہ 2022ء کے مقابلے میں 4.2 فیصد زیادہ ہے تاہم سب سے زیادہ منافع روس اور اسرائیل میں واقع چھوٹی کمپنیوں نے کمایا۔سپری سے منسلک عسکری اخراجات اور ہتھیاروں کی پیداوار پر گہری نظر رکھنے والے ایک محقق نے رپورٹ میں یہ پیشگوئی بھی کی کہ ہتھیاروں سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ رواں سال بھی جاری رہنے کی توقع ہے،گزشتہ سال سامنے آنے والے اعداد وشمار ہتھیاروں کی بھاری عالمی مانگ کی صحیح تصویر پیش نہیں کرتے کیونکہ معاہدے بلیک اینڈ وائٹ میں نہیں آتے اور خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ سپری کے مطابق ہتھیار بنانے والی دنیا کی 100 بڑی کمپنیوں میں 41 امریکی کمپنیاں ہیں جبکہ اِن میں سے پانچ ایسی ہیں جو 2018ء سے ہتھیاروں کی فروخت میں سرِفہرست رہی ہیں۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد امریکہ کے محکمہ دفاع نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں گزشتہ برس عسکری ساز و سامان کی فروخت میں اضافے کا انکشاف کیا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2023ء میں زیادہ تر عسکری ساز و سامان یورپی اور اتحادی ممالک کو فروخت کیا گیا۔ محکمہ دفاع کی اُس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت میں اضافے کا ایک سبب کئی ممالک کی طرف سے اپنی فوج کو جدید جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں سے لیس کیا جانا تھا۔دفاعی ماہرین کے مطابق جنگی ساز و سامان ماضی کے مقابلے میں اب بہت مہنگا ہو چکا ہے جس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ایک جدید اینٹی ٹینک میزائل (جیولن) کی پاکستانی روپے میں قیمت قریباًپانچ کروڑ روپے بنتی ہے،امریکہ میں دفاعی ہتھیاروں کی صنعت نجی شعبے کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے ہتھیاروں کی ایک لابی بنا رکھی ہے تاہم متعلقہ ماہرین کے خیال میں یہ لابی دراصل امریکی سرکار ہی چلاتی ہے۔ دنیا میں ہتھیار بنانے والی ٹاپ 10 کمپنیوں میں امریکہ کی پانچ کمپنیوں کے علاوہ چین کی تین جبکہ روس اور برطانیہ کی ایک،ایک کمپنی شامل ہے۔ پہلی 100کمپنیوں کی فہرست میں یورپ کی 27 کمپنیاں بھی ہیں جن کی 2023ء میں مجموعی آمدن 133 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ روس۔ یوکرین جنگ سے جنگی سامان بنانے والی روس کی کمپنیوں کو بھی بھاری فائدہ ہوا جن کی آمدن میں 40 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا جنہوں نے 25 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیار فروخت کیے۔
چین کے بارے میں سپری کا کہنا ہے کہ وہاں چونکہ معیشت سست روی کا شکار ہے اِس لیے گزشتہ سال اِس کی ہتھیاروں سے ہونے والی آمدن میں معمولی یعنی صرف 0.7 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم چینی کمپنیوں کی 2023ء میں مجموعی آمدنی 103 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔یہاں یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر چین اور روس بہت قریب آ چکے ہیں، روس کی دفاعی ٹیکنالوجی بہت جدید ہے، میزائل اور آبدوزوں کی ٹیکنالوجی جیسے کئی شعبوں میں وہ امریکہ اور یورپ سے بھی آگے ہے اور اب اِسے چین کی صنعتی صلاحیت کا ساتھ بھی مل رہا ہے۔ہتھیار بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں اسرائیل کی تین کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کی غزہ جنگ کے بعد مجموعی فروخت 13 ارب 60کروڑ ڈالر رہی جو کہ تاریخ کی سب سے بڑی فروخت ہے۔سپری کے سینئر محقق کے خیال میں اسلحے کی بڑھتی فروخت کا رحجان جاری رہنے کی توقع ہے کیونکہ غزہ میں جنگ ابھی تک بھڑکی ہوئی ہے اور توقع کی جا سکتی ہے کہ ہتھیار بنانے والی اسرائیلی کمپنیوں کو اِس برس پہلے سے بھی کہیں زیادہ جنگی سازو سامان کے آرڈر ملیں گے۔ سپری کی فہرست میں دو بھارتی کمپنیاں بھی شامل ہیں تاہم پاکستان کی کوئی کمپنی اِس فہرست میں موجود نہیں،بھارت کا شمار ہتھیار بنانے اور فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں سب سے چھوٹے ملکوں میں ہوتا ہے، گذشتہ سال اِس کی مجموعی آمدن چھ ارب سات کروڑ ڈالر رہی۔ سپری کی رپورٹ میں دفاعی ماہرین کی رائے کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ ٹکراؤ، جنگ اور دنیا کے کئی خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیاسی غیر یقینی کی فضاء کے سبب رواں اور آئندہ برس بھی ہتھیاروں کی فروخت میں مزید اضافہ ہو گا تاہم نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ صدارت شروع ہونے سے ہتھیاروں کی فروخت کے بازار میں چڑھاؤ کے رحجان میں تبدیلی آ سکتی ہے کیونکہ انتخابی مہم کے دوران وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ جنگوں پر خرچ کرنے کے حق میں نہیں۔
اُنہوں نے روس۔یوکرین جنگ فوری بند کرانے کی بات کے علاوہ اسرائیل۔ حماس جنگ بند کرانے کی بات بھی کی تاہم اْن کی طرف سے واضح حکمت عملی تاحال سامنے نہیں آئی کہ وہ یہ جنگیں کیسے بند کریں گے۔اُنہوں نے البتہ چند روز قبل یہ بیان دیا کہ اُن کی حلف برداری سے قبل اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہو جانی چاہئے ورنہ وہ مشرق وسطیٰ کوجہنم بنا دیں گے۔ ایسے بیانات سے جنگ بڑھ تو سکتی ہے ختم شاید نہ ہو پائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے لگ بھگ سبھی خطوں میں ایسے تنازعات موجود ہیں جن کی چنگاری کسی بھی وقت آگ میں بدل سکتی ہے، مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین، افریقی ممالک ہوں یا مشرقِ وسطیٰ، دنیا کے درجنوں ممالک ایسے ہیں جو تنازعات کا شکار ہیں اور اِن میں سے بعض تو نصف صدی سے بھی زیادہ پرانے ہیں، دنیا کا سب بڑا ادارہ اقوام متحدہ بھی اِن تنازعات کو حل کرانے میں ناکام نظر آتا ہے، دنیا میں آج بھی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون رائج ہے،دنیا پر حکومت کرنے والے چند ممالک کی دلچسپی نہ ہو تو کوئی مسئلہ حل ہو ہی نہیں سکتا،اسرائیل فلسطین جنگ میں بھی سلامتی کونسل کے کردار پر انگلیاں اُٹھی ہیں کہ ویٹو کی طاقت کا استعمال جنگ بندی نہیں بلکہ اِسے جاری رکھنے کے لیے کیا گیا، اسلحے کی فروخت کے گزشتہ سال کے اعدادوشمار سے واضح ہو رہا ہے کہ ایسا بھی کیوں کیا گیا، رواں سال بھی اختتام پذیر ہونے کو ہے،اِس سال اسلحے کی فروخت میں یقینا اضافہ ہی ہوا ہو گا کیونکہ نہ روس یوکرین جنگ رُکی اور نہ ہی غزہ جنگ بندی ممکن ہو پائی،اب تو شام کا محاذ بھی کھل چکا ہے جہاں باغی بشار الاسد کی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں اور اطلاعات ہیں کہ چند شہروں پر قابض بھی ہو چکے ہیں، وہ کامیاب ہوں یا ناکام، اسلحہ تو دونوں اطراف سے استعمال ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔اِن جنگوں کا اصل فائدہ براہِ راست اسلحے کی صنعت پر اجارہ داری رکھنے والے امریکہ سمیت اُن دس ممالک ہی کو ہو گا تاہم بھارت جیسے چند ممالک بھی اِس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں گے۔جنگی سامان کی خرید و فروخت اکثر کمزور ممالک کو دنیا کے نقشے سے ہٹانے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے تو یہ عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے،اُسے چاہیے کہ وہ اِس معاملے پر غور کرے اور کوئی تو قواعد و ضوابط طے کرنے پر زور دے۔

مطلقہ خبریں