Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

غزہ جنگ۔۔ حساب سودوزیاں

جنگ بندی سے نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے کے عوام کے دلوں میں بھی حماس کی قدر و منزلت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے
نواز کمال
مذاکرات کی کامیابی کے باوجود خدشے کی کہیں نہ کہیں ہلکی سی پرچھائیں تھیں کہ شاید معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوسکے، مگر ہال آخر 19 جنوری بروز اتوار سے غزہ میں جنگ بندی کا آغاز ہوچکا۔ دراصل نیتن یاہو حکومت کے اہم اتحادی کہہ چکے تھے کہ اگر معاہدے پر دستخط کردیا گیا تو وہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرلیں گے، مگر نیتن یاہو کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا تھا۔ چونکہ یہ یہودیوں کی عبادت کا دن ہے، لہٰذا ایلچی کو سورج غروب ہونے تک انتظار کا کہا گیا، مگر وٹکوف نے انتظار سے انکار کردیا، چنانچہ ہفتے کے روز ہی ان کی نیتن یاہو سے ملاقات ہوئی۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات میں نیتن یاہو شدید دباؤ اور اضطراب کی کیفیت میں تھے۔
جوبائیڈن نے گزشتہ سال مئی میں تین مراحل پر مشتمل معاہدے کا خاکہ پیش کیا تھا، دُنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ جس قدر غزہ میں نقصان ہورہا ہے، معاہدے کا ڈول ڈلتے ہی حماس جنگ بندی کے لئے دیوانہ وار ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردے گی، مگر وہ پُرسکون رہی۔ دُنیا دیکھ رہی تھی کہ حماس اپنی شرائط سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ تب ہم نے ایک جملہ کہا تھا۔ وہ یہ کہ اب معاملہ سودوزیاں کے مروجہ پیمانوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ اب اعصاب کی پختگی کا مرحلہ درپیش ہے۔ جس کے اعصاب چٹخے، وہ مارا گیا۔ جس کے اعصاب دباؤ کی شدت سہہ گئے، وہ فتح یاب ہوا۔ آخرکار دُنیا نے دیکھا کہ گوشت پوست کے پُتلے فولاد کے بنے ہتھیاروں پر بھاری پڑ گئے۔ 19 جنوری کو اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ ہم نے یرغمالیوں کی واپسی کے لئے بھاری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دباؤ اور اضطراب میں تو ہارنے والے ہوتے ہیں، اس تمام دورانیے میں نیتن یاہو کیوں مضطرب تھا؟ بھاری قیمت تو مفتوح ادا کرتے ہیں، پھر اسرائیلی وزارتِ خارجہ کیوں کہہ رہی تھی کہ ہم نے بھاری قیمت چکانے کا فیصلہ کرلیا ہے؟
ہم اپنی گزشتہ تحریر میں لکھ چکے ہیں کہ عوام کے جانی نقصان یا انفرااسٹرکچر کی تباہی کو شکست کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا، جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ حزب و ضرب کے پیمانوں سے ناواقف ہیں، ویت نام جنگ میں شمالی ویت نام اور اس کے اتحادیوں کا جانی نقصان پونے 12 لاکھ تھا جبکہ امریکا کے 58 ہزار فوجی مقتول ہوئے تھے، مگر دُنیا پھر بھی امریکا کو شکست خوردہ تسلیم کرتی ہے۔ جب روس کا آخری سپاہی دریائے آمو کے اس پار اتر رہا تھا، تب قتل و زخم کے گوشواروں کے مطابق افغانوں کے نقصان کا گراف بہت بلند تھا، مگر دُنیا انہیں فاتح کے لفظ سے یاد کرتی ہے۔ جب بگرام ایئربیس سے امریکا کا آخری فوجی طیارہ اڑان بھر رہا تھا، تب تک اس شکست کے چرچے مشرق تا مغرب ہونے لگے تھے۔ انسانی تاریخ کی کتنی ہی ایسی جنگیں ہیں جن میں ایک فریق بہت سا جانی نقصان اٹھانے کے باوجود فاتح قرار پایا۔
دورِجدید میں اہداف کے حصول کو فتح اور شکست کا پیمانہ قرار دیا گیا ہے۔ امریکا نے افغان جنگ مین دو اہداف مقرر کر رکھے تھے۔ ایک القاعدہ کا خاتمہ اور دوسرا طالبان کی بیخ کنی کرنا۔ 2011ء میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس نے جب ہاتھ جھاڑے اور افغانستان کی دلدل سے نکلنے کے لئے پائنچے اٹھائے تو دُنیا نے طالبان کی عسکری طاقت کے جوں کے توں ہونے کا طعنہ اچھالا۔ مجبوراً انکل سام کو یہ کہتے ہوئے رکنا پڑا کہ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے۔ پھر دُنیا نے دیکھا کہ اسے افغان سرزمین پر اپنے حریف کا حق حکمرانی تسلیم کرنا ہی پڑا۔ اب وہی امریکا تب ان امریکی جرنیلوں پر مقدمے قائم کرنے کی بابت سوچ رہا ہے جو افغانستان سے پسپائی کے وقت وہاں تعینات تھے۔ ایسا کیوں؟ فاتح تو سزا دینے کے بجائے تمغے دیا کرتا ہے۔
غزہ جنگ کا درست ترین تجزیہ تو یہ ہے کہ یہ جنگ کم از کم برابری پر ختم ہوئی ہے، کیونکہ حماس کے اہداف میں سے سب سے نمایاں ہدف غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنا تھی، مگر یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا۔ دوسری جانب اسرائیل کا ہدف حماس کا مکمل خاتمہ تھا اور غزہ کی پٹی کو اپنے قبضے میں لینا تھا، مگر وہ سراسر ناکام ہوا۔ اہل غزہ کا جانی نقصان بہت زیادہ ہوا۔ دوسری طرف اسرائیل کی معیشت تباہی سے دوچار ہوئی۔ باقاعدہ فوج کم پڑی تو ریزرو دستے میدان میں اتارنے پڑے۔ ان میں سے بھی 20 فیصد چھٹیوں پر جا کر واپس میدان کا رخ نہ کرتے۔ حماس نے فلسطینیوں کے دلوں میں اپنے لئے مزید گنجائش پیدا کرلی۔ خطے کی طاقتوں کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ یوں اس کی علاقائی اہمیت اور قد کاٹھ میں بے حد اضافہ ہوا۔ گویا ٹیبل پر پوائنٹس برابر ہیں، مگر جب بعض لوگ اسے اہل غزہ کی شکست قرار دیتے نظر آتے ہیں تو پھر معاملے کو اس زاویے سے بھی دیکھنا پڑتا ہے، جس زاویے سے تحریر کی بالاسطور میں دیکھا گیا اور بات کی گئی، یعنی کہ ایک جانب خطے کی سب سے بڑی عسکری طاقت، بلکہ اس کی پشت پر امریکا جیسی عالمی طاقتیں، جبکہ دوسری جانب ایک نجی عسکری تنظیم۔ صرف 41 کلومیٹر کا محاذِ جنگ۔ 15 ماہ کا طویل عرصہئ جوروجفا۔ 85 ہزار ٹن بارود برسانے کے باوجود نہ تو حماس کو مٹایا جاسکا اور نہ اس کے اعصاب پر طاری اطمینان کو اضطراب میں تبدیل کیا جاسکا۔ ہال آخر اسی سے مذاکرات کرنے پڑے۔ مذاکرات کے دوران قدم قدم پر اس کے مطالبات مانے گئے۔ نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے کے عوام کے دلوں میں بھی حماس کی قدر و منزلت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ یرغمالیوں کی رہائی کے وقت اپنے جانبازوں کی ایک جھلک دیکھنے جم غفیر امڈ آیا تھا، جس کے ہاتھوں میں پتھر نہیں بلکہ لبوں پر ستائشی مسکراہٹ تھی۔
پھر کس کا چہرہ خاک آلود ہوا اور کون سرخ رو ٹھہرا؟

مطلقہ خبریں