Friday, April 4, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

مسلم ممالک لڑکیوں کی تعلیم کے لئے پُرعزم

تعلیم ہر لڑکی کا بنیادی حق ہے اور اس کے حصول کو کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے بغیر یقینی بنایا جائے، مذہبی رہنما تعلیم کے اسلامی اصولوں کو اُجاگر کرنے اور عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے اپنا فریضہ کماحقہ ادا کریں، دو روزہ عالمی اسکول گرلز کانفرنس کا اعلامیہ
پروفیسر ماہین الیاس
تعلیم ہر لڑکی کا بنیادی حق ہے اور اس کے حصول کو کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے بغیر یقینی بنایا جائے۔ مذہبی رہنما تعلیم کے اسلامی اصولوں کو اجاگر کرنے اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے اپنا فریضہ کماحقہ ادا کریں۔ اس امر کا اعلان دو روزہ عالمی اسکول گرلز کانفرنس کے اختتام پر ”اعلانِ اسلام آباد“ کے نام سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کیا گیا۔ کانفرنس کا مقصد مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا اور تعلیمی مواقع پیدا کرنا تھا۔
مسلم دُنیا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج تعلیم نسواں کے حوالے سے اختیار کئے ہوئے نامناسب رویے ہیں، بدقسمتی سے بعض مسلم معاشروں میں پہلے تو لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر نافذ کی جانے والی خودساختہ پابندیاں ہیں جن کا اگرچہ اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، مگر انہیں عین اپنی مذہبی سوچ سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے لڑکیوں پر یہ ظلم روا رکھا جاتا ہے، بدقسمتی سے اسلامی ممالک میں غالب مائنڈ سیٹ ہی لڑکیوں کی تعلیم اور گھر سے باہر کام کرنے کا مخالف ہے اور کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک خوشگوار تبدیلی کے عمل سے نہیں گزر سکتا جب تک وہاں عوامی رائے اور سوچ و فکر تبدیل نہ ہوجائے۔ عام رائے یا سوچ کے دباؤ کی وجہ سے خواتین کو سماجی اور اقتصادی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع نہیں ملتا۔ تیسری دنیا خصوصاً ایشیا اور افریقہ میں خواتین کو صدیوں سے تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ آئین پاکستان کسی بھی امتیازی رویے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، مگر اصل مسئلہ قوانین کے بننے سے زیادہ ذہنی سطح یا مائنڈ سیٹ کا ہے۔ ہمارے ہاں تو عورتوں کی بڑی تعداد قرآن کی بنیادی تعلیم تک سے محروم ہےِ، اب یہاں ہم سائنسی اور تحقیقی تعلیم کی بات چھوڑ ہی دیں۔ طالبان، افغانستان میں دوسری بار برسراقتدار آئے ہیں اور انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی ہے، یہ پابندی صرف لڑکیوں کے حقوق سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ تمام افغان لوگوں کے لئے ایک بحرانی کیفیت ہے۔ ہزاروں اساتذہ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ امدادی عملہ بھی بے روزگار ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے شعبے سے مالی طور پر فائدہ اٹھانے والے نجی ادارے اور کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ افغانستان کی معیشت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور لوگوں کی آمدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ خواتین کو ملازمتوں سے باہر رکھنے کے نتیجے میں ملک کی جی ڈی پی یا مجموعی قومی پیداوار کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ افغانستان نے عالمی سطح کی منعقدہ کانفرنس میں شرکت نہیں کی ہے۔ اسی طرح مسلم افریقی ممالک سمیت یمن میں ایسے نام نہاد اسلامی عناصر قابض ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ ہیں۔
والدین کے عدم تعاون کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی ضرورت و اہمیت سے ان کی ناواقفیت اور لاشعوری کی بنا پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی ایسے گھرانے جو اپنے آپ کو کٹر مذہبی سمجھتے ہیں یا یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ اسلامی قوانین کی پابندی کرنے والے ہیں وہ لڑکیوں کے معاملے میں سراسر جاہلیت کا ثبوت دیتے ہیں اور گھر کی حد تک اپنی بچیوں کا ناظرہ قرآن اور چند دینی امور کی تعلیم دے کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی ذمے داری مکمل کرلی ہے۔ آج دُنیا ترقی کے جن مدارج پر ایستادہ ہے ان کے لئے بنیادی ضرورت معاشروں کو اعلیٰ تعلیم سے ہمکنار کرنا ہی سمجھا جاتا ہے، یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ ماضی کی بہ نسبت آج مسلمانوں میں اپنی لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے لیکن آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں وہ دلچسپی، وہ خوشی اور سرگرمی والدین یا لڑکیوں کے سرپرستوں کی جانب سے دیکھنے کو نہیں ملتی جو کہ لڑکوں کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کی کئی دہائیوں میں ان ادوار کی حکومتوں نے تعلیم نسواں تو ایک طرف، سرے سے تعلیم کے فروغ کی ضرورت کا احساس ہی نہیں کیا اور سالانہ میزانیوں میں تعلیم کے شعبے کیلئے مختص رقم کبھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر رکھنے پر بھی توجہ نہیں دی، اس حوالے سے ان بااثر جاگیرداروں، خوانین، سرداروں اور وڈیروں کا بڑا اہم کردار رہا ہے جو اپنے زیراثر علاقوں میں تعلیم عام ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے ہیں بلکہ اب بھی سوشل میڈیا پر ایسی تصویریں اکثر وائرل ہوجاتی ہیں جہاں دروازوں پر اسکول، مدرسہ وغیرہ کے بورڈ نصب ہوتے ہیں جبکہ اندر ان علاقوں کے بااثر افراد کے گدھے بندھے ہوئے نظر آتے ہیں، ایسی صورت میں تعلیم نسواں کی کتنی اور کیا اہمیت رہ جاتی ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تعلیم کی اہمیت و افادیت کے حق میں بلند آہنگ تقریریں کرنے والوں کو ہی دینا چاہئے۔
دراصل لڑکیوں کی سماجی حیثیت میں بلندی ہی ان کی اقتصادی سرگرمیوں میں شرکت کی صلاحیت، مارکیٹوں تک رسائی اور اپنے پیداواری وسائل پر ان کے اختیار کو بڑھاتی ہے۔ صنعتی اور جدید دور میں داخل ہونے کے بعد بھی بیشتر مردوں کی عورتوں سے جڑی ذہنیت کی ارتقا کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا ہے اور وہ اب بھی فرسودہ سوچ میں الجھے ہوئے ہیں، مثلاً اکثر مرد شادی کے معاملے میں پڑھی لکھی خواتین کو ان پڑھ خواتین پر صرف اس لئے فوقیت دیتے ہیں تاکہ معاشرے میں ان کی اپنی حیثیت بڑھے لیکن وہ ان کے سماجی اور اقتصادی میدانوں میں قدم رکھنے کو معیوب تصور کرتے ہیں۔ اس ذہنی ارتقائی عمل میں رکاوٹ کی وجہ ثقافتی اور فرسودہ روایات کا خاصا عمل دخل ہے، لہٰذا بطور معاشرہ ہمارے لئے اس ارتقائی عمل کے تعطل کو توڑنا اور خواتین کے کردار سے متعلق زاویہ نظر کی تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مسلمان لڑکیوں کی تعلیم سے دوری کی کئی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست والدین اور گھر والوں کا عدم تعاون ہے۔ والدین اپنی بیٹیوں کے معاملے میں بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں، اس لئے وہ والدین جو کچھ حد تک تعلیم کی اہمیت سے واقف ہوتے ہیں، زیادہ سے زیادہ اپنی بیٹیوں کو گریجویشن تک تعلیم دلوا کر ان کی شادی کی فکر کرنے لگتے ہیں اور کچھ والدین جو سرے سے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں نہیں ہوتے یا یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم ان کی بے راہ روی کا سبب ہوگی، ان کی اولین ترجیح اپنی بیٹیوں کے شادی کے فرض سے سبکدوش ہونے کی رہتی ہے۔
لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مانع موجود معاشی مسائل بھی ایک اہم وجہ ہے جس کی بنا پر والدین لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے پاتے، ان کا صرف یہ یقین ہوتا ہے کہ جتنی بھی جمع پونجی ہے اسے خرچ کرکے لڑکوں کو تعلیم دلا دیں تو وہ ان کے بڑھاپے کا سہارا ہوں گے۔ دیہاتوں اور گاؤں میں رہنے والی طالبات اور والدین کے لئے یہ بھی مسئلہ ہوتا ہے کہ دیہاتی سطح پر اچھے اور معیاری اسکول اور کالج موجود نہیں ہوتے اور والدین اپنی بیٹیوں کو ہاسٹل میں رکھ کر تعلیم دلانے کی ہمت نہیں کر پاتے، بعض دفعہ جب ماں باپ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے تیار ہوتے ہیں تو بھائیوں کی نام نہاد ”غیرت“ یہ گوارا نہیں کرتی کہ ان کی بہنیں، ان سے زیادہ تعلیم حاصل کریں یا پھر گھر سے دور ہاسٹل میں رہیں، بہنوں کا گھر سے باہر کالج اور یونیورسٹی جانے کے مقصد سے نکلنا بھی ان کی نظر میں انتہائی معیوب ترین بات ہوتی ہے۔ تمام لڑکیوں کو ان کے والدین اور سرپرستوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ تعلیم صرف روزگار فراہم نہیں کرتی بلکہ یہ آگاہی اور شعور عطا کرتی ہے، اپنی زندگی میں درپیش تمام مسائل کا صحیح حل تلاش کرنے کی ہمت، صلاحیت اور سِمت عطا کرتی ہے۔ تعلیم انفرادیت اور اجتماعیت میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے، اس حیثیت سے یہ فرد اور معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جسے استعمال کرکے معاشرہ تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرتا ہے اور خصوصاً عورت کی تعلیم ایک نسل کے اعتقادات و تصورات، روایات و اقدار، تہذیب و تمدن، علوم و فنون، خاندانی پیشہ، رسم و رواج، خواہشات و دلچسپیاں وغیرہ کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے تئیں ہم قرون اولیٰ کی خواتین پہ نگاہ ڈالیں تو حضرت عائشہؓ کی عظیم الشان مثال ہمارے سامنے آتی ہے، انہوں نے اپنی آنے والی نسلوں پر یہ احسان کیا کہ رسول اکرمﷺ سے ہر مسئلہ باریک بینی کے ساتھ سیکھ کر ان کے رموز و نکات کو امت تک پہنچایا۔ احادیث کا آپؓ سے زیادہ مروی ہونا، ساتھ ہی ساتھ مختلف علوم میں (جو اُس وقت موجود تھے) آپؓ کا ماہر ہونا اس بات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ لڑکیاں علم کے میدان میں آگے جائیں تاکہ مسلم لڑکی اپنی جنس کو کمزوری بنا کر اپنے آپ کو پیچھے نہ رکھیں، اس امت کو اچھی ماؤں کی ضرورت ہے۔ مسلم خواتین نے تعلیم کے میدان میں نمایاں کارنامے سرانجام دیئے ہیں، ایسی خواتین کی طرح آج کی ان لڑکیوں کو بننا ہے تاکہ کل اسلام کا ایک بہتر مستقبل بن سکیں جہاں کامیابیاں ہماری ضمانت ہوں۔
دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افلاک منور ہوں ترے نور سحر سے

مطلقہ خبریں