مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خیرپور کیمپس کے طلبہ نے پاکستان کی دفاعی خودانحصاری کو مضبوط بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت سے چلنے والا روبوٹ وہیکل تیار کرلیا، جس پر نصب لیزر گن سیکنڈوں میں اپنے ہدف کو جلاکر بھسم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تخلیقی آئیڈیا عملی شکل اختیار کرنے کی صورت میں سیکیورٹی اہلکاروں اور افواج کے جانی نقصان کو کم کرتے ہوئے روایتی گولہ بارود کے خرچ کو کم کرے گا۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دوست اور دشمن کی شناخت کرتے ہوئے متحرک اور غیرمتحرک اہداف کو زمین سے زمین، فضاء سے زمین یا زمین سے فضاء میں انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ مہران یونیورسٹی کے خیرپور کیمپس کے طلباء کی ٹیم نے اپنا منفرد تخلیقی آئیڈیا کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ چوتھے ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی شوکیس میں پیش کیا، جسے وزیراعلیٰ سندھ نے بھی بے حد سراہا۔ اس تخلیق کو نیکسٹ جنریشن روبوٹک کومبیٹ سسٹم ود انرجی کا نام دیا گیا ہے، مہران یونیورسٹی ڈپارٹمنٹ آف الیکٹرونکس خیرپور کیمپس کے طالب علم سید اویس احمد نے بتایا کہ انہوں نے روبوٹ لیزر گن کا پروٹوٹائپ بنایا ہے جو روایتی بیلسٹک ویپن سسٹم کا بہترین متبادل بن سکتا ہے، اس سسٹم کی افادیت یہ ہے کہ اس میں گولا بارود استعمال نہیں ہوگا بلکہ لیزر شعاؤں کی بیم سے ہدف کو روشنی کی رفتار سے نشانہ بنایا جاسکے گا، پروٹوٹائپ کیمرا سینسرز اور آئی آر (ریڈار) سینسرز پر مشتمل ہے اور مختلف قسم کے لینسز استعمال کئے گئے ہیں، اس وقت اس کی رینج چھ فٹ ہے جسے بہتر اور بڑے ماڈیولر استعمال کرکے اس حد تک بڑھایا جاسکتا ہے کہ فضائی حملے کے دوران دشمن کے میزائلوں کو بھی فضاء میں ہی لیزر شعاعوں سے ناکارہ کیا جاسکتا ہے۔