Friday, April 4, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

پاکستان نیوی نے جدید اے آئی پی ٹیکنالوجی میں بھارتی نیوی کو پیچھے چھوڑ دیا

پاکستان نیوی نے جدید ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (اے آئی پی) ٹیکنالوجی میں بھارتی نیوی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ چینی ساختہ ہنگور کلاس آبدوزیں طے شدہ شیڈول کے مطابق پاکستان نیوی کے بیڑے میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ بھارتی نیوی نے حال ہی میں P-75 اسکورپین پروجیکٹ کے تحت چھٹی اور آخری آبدوز کے ساتھ ایک اسٹیلتھ فریگیٹ اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر آبدوز کو بیڑے میں شامل کیا ہے۔ بھارتی بحریہ کے بیڑے میں شامل ہونے والی اس آبدوز کے بعد بھی انڈیا پیچھے ہے کیونکہ بھارتی نیوی کے پاس اب تک کوئی بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس آبدوز نہیں ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نیوی کے پاس تین فرانسیسی ساختہ اگوسٹا-90B آبدوزیں (پی این ایس خالد، سعد اور حمزہ) پہلے ہی موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق چینی ہنگور کلاس آبدوزیں 2030ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستان نیوی میں شامل ہوں گی۔ ان آبدوزوں کی شمولیت کے بعد پاکستان نیوی کے اے آئی پی ٹیکنالوجی سے لیس آبدوزوں کی تعداد 11 ہوجائے گی۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نیوی بھارت کی طاقت کا بحری جہاز بہ بحری جہاز مقابلہ کررہی ہے۔ پاکستان نیوی نے اپنے بیڑے کو 50 جنگی جہازوں تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں 20 بڑے جنگی جہاز، فریگیٹ اور کارویٹ شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان نیوی 11 آبدوزوں پر مشتمل ایک مضبوط زیرِسمندر بیڑا بھی تیار کررہی ہے۔ پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے چینی میڈیا کو بتایا کہ چار ہنگور کلاس آبدوزوں کی تعمیر طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبدوزیں پاکستان کی بحری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گی، جس کے بعد طاقتور ہتھیاروں کے ساتھ نیوی کو مختلف آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت فراہم ہوگی۔ ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ آبدوزیں جلد ہی پاکستان نیوی کے بیڑے کا حصہ بن جائیں گی۔

مطلقہ خبریں