پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ابتداء امریکا کے 1953ء ”ایٹم برائے امن“ کے پروگرام سے ہوئی
نصرت مرزا
پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی پاکستان دنیا کے ممالک کی نگاہوں کا مرکز بن گیا کیونکہ یہاں مواقع موجود تھے، کئی ممالک نے اس کی خوشنودی، یہاں کی مستقبل کی تجارتی مارکیٹ پر اشیاء کی خریدوفروخت میں حصہ لینا اور اس ملک میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی شروعات کردی۔ کہتے ہیں کہ 1948ء میں مارک اولی فٹ جن کا پورا نام سر مارکس لورینس ایلیون آسٹریلوی ایک فزکس کے سائنسدان اور فلاحی شخصیت تھے نے ایک خط کے ذریعے قائداعظم محمد علی جناح کو جوہری پروگرام شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس پر بات آگے نہیں بڑھ سکی کہ پاکستان دوسری الجھنوں میں پھنسا ہوا تھا، البتہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ابتداء امریکا کے 1953ء ”ایٹم برائے امن“ کے پروگرام سے ہوئی۔ پاکستان نے 8 دسمبر 1953ء کو اس پر کام شروع کیا اور 1956ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کا قیام عمل میں لایا گیا۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان 11 اگست 1955ء میں مفاہمت ہوگئی کہ پاکستان ایٹمی توانائی کو تجارتی اور پُرامن مقاصد کے لئے استعمال کرے گا۔ اس مفاہمت کی بنیاد پر امریکا نے پاکستان کو ایک پروٹو ٹائپ ایٹمی ری ایکٹر جس کی مالیت 350,000 ڈالر تھی، 1971ء سے پہلے فراہم کردیا۔ پاکستان 1956ء سے 1971ء تک پُرامن ایٹمی پروگرام پر سختی سے قائم رہا اور پاکستان امریکی صدر آئزن ہاور کے ”ایٹم برائے امن“ کے پروگرام کا بھی حصہ رہا۔ 11 دسمبر 1965ء کو ڈورچیسٹر ہوٹل لندن میں بھٹو صاحب نے جنرل محمد ایوب خان اور عالمی ایٹمی ادارے IAEA میں کام کرنے والے ایک پاکستانی سائنسدان منیر احمد خان سے ملاقات کروائی۔ ذوالفقار علی بھٹو منیر احمد خان کے انکشاف اور خیالات سے اتفاق کرتے تھے۔ منیر احمد خان نے جنرل ایوب خان کے سامنے انکشاف کیا کہ بھارت ایٹم بم بنا رہا ہے، اس لئے پاکستان کو بھی بنانا چاہئے مگر جنرل ایوب خان نے جب اس کی قیمت معلوم کی تو یہ کہہ کر منع کردیا کہ یہ انتہائی مہنگا ہے، جب بھارت ایٹم بم بنائے گا تو ہم مارکیٹ سے خرید لیں گے، اس وقت پاکستان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ یہ جنرل ایوب خان کی فاش غلطی اور ان کی کوتاہ نگاہی کی ایک مثال ہے۔
16 دسمبر 1971ء کے المیہ کے بعد جب بھٹو صاحب پاکستان کے چیف مارشل لاء اور پرائم منسٹر بنے تو ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے 24 جنوری 1972ء میں معروف سیاستدان نواب صادق حسین قریشی گھر شہر ملتان میں واقع پاغیچہ کے احاطہ میں ایک شاندار شامیانے کے اندر فزکس اور دیگر علوم کے سائنسدانوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ نیوکلیئر بم بنایا جائے۔ اس موقع پر غلام اسحاق خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی شکست پر ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا۔ تین سائنسدانوں نے اپنی خدمات پیش کیں، ان میں ڈاکٹر ثمرمبارک مند، منیر احمد خان وہ ویانا سے حال ہی میں واپس آئے تھے اور سلطان بشیر الدین محمود شامل تھے جو بعد میں مقتوب ہوئے۔ اس اجلاس کے فوری بعد بھٹو نے لیبیا، سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کے طوفانی دورے کئے۔ اس دورے میں غلام اسحاق خان ان کے ساتھ تھے تاکہ مالی معاملات کو سنبھالیں۔ معمر قذافی آف لیبیا اور شیخ زایدالنہیان ابوظہبی نے مالی امداد کا وعدہ کیا اورمالی مشین بنانے کو تیار ہوگئے۔ غلام اسحاق خان اس کے سربراہ تھے۔ 1971ء سے ایٹم بم بنانے کی تیاری شروع ہوچکی تھی، یہاں تک کہ 1974ء میں بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کیا۔ 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان میں شکست کے بعد یہ دوسرا صدمہ پاکستان کو ملا، جس نے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کردیا۔ جہاں پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن پر کام کررہا ہے وہاں ذوالفقار علی بھٹو نے تیز رفتار راستہ اختیار کرنے کا سوچا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو اس وقت یورپ میں ایٹمی پروگرام پر کام کررہے تھے، اپنی خدمات پیش کی، ان کو کہوٹہ راولپنڈی کے مقام پر لیبارٹری بنا کردی گئی، جو بعد میں اے کیو خان لیبارٹری کے نام سے مشہور ہوئی اور انہوں نے یورینیم /U-235 1983ء میں بنا لیا جبکہ 1984ء میں ایٹم بم بنا لیا گیا اور اس کا کولڈ ٹیسٹ بھی کیا گیا جو دنیا کے علم میں آگیا۔
دوسرے ملکی معاملات کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے چنانچہ 1961ء میں پاکستان نے معدنی اشیاء کے دو مراکز قائم کئے ایک لاہور اور دوسرا ڈھاکہ میں اور اس طرح بنیادی تحقیقی کام شروع ہوا۔ ہمارے سائنسدانوں کے ذہن میں یورینیم کے ذخائر کی دریافت کا سودا سمایا ہوا تھا۔ چنانچہ ڈیرہ غازی خان کے ضلع میں خام یورینیم کے ذخائر ملے اور PAEC کو پہلا قومی ایوارڈ اس دریافت پر ملا۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی نے بڑی تعداد میں سائنسدانوں کو ایٹمی ری ایکٹر پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی ڈگری کے حصول کے لئے ترقی یافتہ ممالک بھیجا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (پیسٹیک) اسلام آباد کے قریب نیلور میں قائم کیا۔ ادارہ میں تربیت کے لئے پانچ میگاواٹ کے ایک ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر کا کام 8 جولائی 1963ء کو شروع ہوا اور 21 دسمبر 1965ء کو مکمل ہوگیا۔ جس کی طاقت کو بڑھا کر 1994ء میں MW 10 کردیا۔ 30 – 27 کلو واٹ ہلکا پانی تالاب نما نمونہ کے طور پر تربیت کے لئے بنایا گیا۔ اسی قسم کا ایک ایٹمی ری ایکٹر نارتھ کیرولائینا یونیورسٹی (امریکا) میں لگا ہوا تھا۔ پاکستان کا یہ تحقیقی ری ایکٹر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے زیرنگرانی رہا۔ 1965ء میں جنرل محمد ایوب خان صدر پاکستان نے ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنا مشیر مقرر کردیا اور انہوں نے جو کاوشیں کیں اُس کے نتیجے میں اور کینیڈین کمپنی نے 1970ء میں CANDU،137MW ری ایکٹر پیراڈیز پوائنٹ کراچی میں لگانا شروع کیا۔ جس کا افتتاح 28 نومبر 1972ء کو ہوا، یہ بعد میں کینپ کہلایا اور 137 میگاواٹ بجلی ایٹمی بجلی گھر سے فراہم کرتا تھا۔ 1974ء کے بھارتی ایٹمی دھما کے بعد جب پاکستان پر پابندیاں لگ گئیں تو پاکستان نے جوہری پلانٹ کینپ کو اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف کامیابی سے چلایا بلکہ اس کے پرزہ جات کو مقامی ذریعہ سے تیار کروایا۔ اس طرح اس پلانٹ کو چلانے میں پاکستان کے انجینئروں اور سائنسدانوں نے جو دن رات محنت کی اس کی وجہ سے ان کو ایٹمی بجلی گھر چلانے میں مہارت حاصل ہوگئی۔ اب وہ خود چھوٹا ایٹمی پاور پلانٹ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ ایٹمی بجلی گھر چلانے کی مہارت دنیا بھر میں مانی جاتی ہے اور پاکستان کے انجینئرز اور سائنسدان نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ملکوں میں جاکر ایٹمی بجلی گھر چلانے کی تربیت دے رہے ہیں۔ یورینیم پیداوار کے حوالے سے 1970ء میں PAEC نے ایک آزمائشی منصوبہ ڈیرہ غازی خان میں شروع کیا، یہ منصوبہ 10 ہزار پاؤنڈ یومیہ یورینیم کچی دھات کو قابل استعمال بنا سکتا تھا۔
1989ء میں چشمہ کے مقام پر چین کی مدد سے 2 ایٹمی پاور پلانٹ بنانے کا معاہدہ کیا گیا۔ چشمہ 1 نے 2000ء سے 300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنا شروع کردی۔ چشمہ 2 نے 2011ء میں اور چشمہ 3 نے 28 دسمبر 2016ء سے 340 میگاواٹ بجلی کی فراہمی شروع کردی جبکہ چشمہ 4 نے 27 ستمبر 2017ء سے 340 میگاواٹ بجلی کا حصول ممکن ہوا۔ PAEC نے پاکستان کی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں 1350 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کرکے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کینپ 2 اور کینپ 3 سے 1100 میگاواٹ بجلی 2021ء میں فراہمی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یوں اب 3550 میگاواٹ بجلی ایٹمی گھروں سے حاصل کی جارہی ہے۔
توانائی کے علاوہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) نے صحت، زراعت، تعلیم، انجینئرنگ اور لائیواسٹاک میں بھی جوہری توانائی کا استعمال کرکے پاکستان اور انسانیت کی خدمات انجام دیں جس کو خوب سراہا گیا۔ عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی (IAEA) اور پاکستان ایٹمی انرجی کمیشن (PAEC) دونوں مل کر کام کررہے ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام قوم کی امانت ہے، اس نے قوم کو دشمن کے خطرے سے محفوظ بنا دیا ہے۔ ورنہ وہ ہمیں ہر وقت نقصان پہنچانے میں لگا ہوا ہے۔ مگر اب اس کے لئے ایسا کرنا اپنی موت کی قیمت پر ممکن ہے۔ پاکستان کے عوام نے گھاس تو نہیں کھائی جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ اٹیم بم بنائیں گے چاہے ان کے لوگوں کو گھاس کیوں نہ کھانا پڑے۔ البتہ ایٹم بم بنانے کا سلسلہ بڑا پیچیدہ ہے اور پاکستان کے ہر صاحب فہم، بیوروکریسی صاحب ثروت اور صاحب اقتدارنے اس میں حصہ ڈالا۔ میں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر چار کتابیں لکھیں۔ پہلی پاکستان کا ایٹمی سفر، دوسری انگریزی یں ایشین ایٹمی کلب۔ اس میں یہ تصور دیا گیا تھا کہ دنیا کے پانچ ایٹمی ممالک ہمیں ایٹمی کلب کی ممبرشپ نہیں دیں گے تو کیوں نہ ہم ایشیائی پہلا ایٹمی کلب بنا لیں۔ دنیا میں جنوبی ایشیا کا خطہ ایسا ہے کہ جس میں تین ایٹمی ملکوں کی سرحدیں آپس میں ملی ہوئی ہیں، یعنی پاکستان، بھارت، چین اور روس کو چوتھا پارٹنر بنا لیں تو ہمارا کلب مکمل ہوسکتا ہے۔ دوسرے اسی کتاب میں پاکستان کے حکمرانوں کو یہ تجویز دی گئی تھی کہ افغان جنگ کا ایک ٹریلین ڈالرز کا بل امریکا کو دے دیا جائے جو کسی نہ کسی دن ادا ہوجائے گا، بھارت اس کلب کو بنانے کے لئے راضی نہ ہوا کیونکہ بھارت پاکستان کو زیر کرنے اور اس پر بالادستی حاصل کرنے کا حتمی ارادہ رکھتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ یہ ارادہ پایہئ تکمیل نہ پہنچا سکے گا۔ تیسری کتاب میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مقتوب ہوجانے پر ان کی حمایت میں ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مقدمہ“ کے نام سے لکھی اور چوتھی کتاب پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، انسانیت کی خدمت کے لئے جو کاوشیں کررہا ہے اس کی تفصیلات بیان کیں۔ جس کا نام ”جوہری نشتر تحقیق“ رکھا۔ یہ نام میں نے علامہ اقبال کے اس شعر سے لیا۔
کس طرح ہوا کند ترا نشتر تحقیق؟
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک