Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

یہ صدی کس کی؟

غالب امکان یہی ہے کہ چین اس نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں کامیاب ہوجائے گا اور اکیسویں صدی چین کی ہی ہوگی
نصرت مرزا
اٹھارویں صدی مکینیکل صدی کہلائی جاتی ہے جس میں کوئلہ سے پہیہ چلا۔ اس دور میں ریلوے انجن ریلوے راستہ، فیکٹریاں، پل اور دیگر چیزیں ایجاد ہوئیں، جس سے انسانی زندگی میں انقلاب آیا۔ کپڑا مشینوں میں بننے لگا۔ سمندروں میں کشتیوں کی جگہ بحری جہازوں کا استعمال شروع ہوا۔ جن میں انجن لگے ہوتے تھے اور ان کی رفتار میں تیزی آئی۔ ایک جگہ سے دوسرے مقام پر پہنچنے میں وقت کم لگنے لگا۔ ہتھیاروں میں ٹینک، توپ خانہ جات کا برملا استعمال شروع ہوا۔ یہ برطانیہ کی صدی کہلاتی ہے۔ گورے افریقہ اور ایشیا سستی اجرت پر مزدوروں کو یورپ لے جاتے تھے اور ان سے خوب کام لیتے تھے۔ ایشیائی باشندے جو بہت سادہ اور گاؤں دیہاتوں میں مشکل زندگی گزارتے تھے ان کو قدرے زیادہ محنت کرنا پڑی، مگر آسائشیں بھی ملیں۔ پنجاب اور تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان سے خصوصاً کشمیر سے بہت سے لوگ یورپ، فرانس، پرتگال اور دیگر ممالک گئے۔ یورپ کے ممالک نے اس صدی میں افریقہ اور ایشیا کے بیشتر ملکوں پر قبضہ کرلیا۔ ہندوستان پر انگریز قابض ہوگئے۔ فرانس نے افریقہ کا رخ کیا۔ تیونس، الجزائر، مراکش اور دیگر ممالک پر قبضہ کرکے ان کی دولت کو لوٹا اور یورپ میں 1914ء میں آسٹروہنگری اور جرمنی سلطنت عثمانیہ نے مل کر برطانیہ، فرانس اور امریکا سے جنگ لڑی۔ یوں اس دور میں آسٹروہنگری، جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کو شکست ہوئی اور اس کے اتحادی فوجوں نے حصے بخشے کمزور کرکے Treaty of Lausanne کرنے پر سلطنت عثمانیہ کو مجبور کیا۔ سلطنت عثمانیہ بمشکل تمام موجودہ ترکیہ بچا سکا۔ شام، مراکش، لبنان اور افریقی ملک فرانس کے قبضے میں چلے گئے۔ یہ دور اٹھارویں اور انیسویں صدی تک چلتا رہا۔
انیسویں صدی میں امریکا نے غیرمعمولی ترقی کی اور الیکٹرک دور کہلاتا ہے اور بیسوی صدی امریکا نے اپنے نام کرلی۔ یہ مواصلاتی صدی کہلاتی ہے۔ اس دور میں ہوائی جہاز، ٹیلی فون پھر موبائل فون، انٹرنیٹ سروس اور دیگر چیزیں ایجاد کیں۔ جس نے انسانی زندگی کو آسان بنا دیا اور دنیا کو ایک گاؤں یا شہر میں تبدیل کردیا۔ گھنٹوں میں برسوں کا سفر ممکن بنایا۔ رابطہ کاری کا یہ عالم کہ ہزاروں میل دور بیٹھا شخص اپنے ضرورت یا عزیز واقارب سے ایک لمحہ میں نہ صرف گفتگو کرسکتا ہے بلکہ ان کو حالت موجود میں دیکھ بھی سکتا ہے۔ بات کرسکتا ہے، تجارت کرسکتا ہے، اپنے گھر والوں کو مطمئن کرسکتا ہے۔ ہر قسم کی تجارت کا لین دین کرسکتا ہے۔ پھر ٹی وی اور ویڈیو کی سہولت کے ذریعے دنیا بھر سے رابطہ کاری کا کام سرانجام دے سکتا ہے۔ آج کل یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر ذرائع کے مختلف انجن موجود ہیں، جس کے ذریعے دنیا بھر سے براہ راست تعلق جوڑا جا سکتا ہے۔ فیس بک ایسا ذرائع ہے جس کے ذریعے ہر کس و ناکس اپنا پیغام دنیا بھر میں پہنچا سکتا ہے۔ سوال میڈیا کا ہے کہ وہ کس زبان میں گفتگو کرسکتا ہے، مگر اس کا حل بھی اب چوتھے دور میں آگیا ہے۔ آپ کسی بھی موجودہ زبان میں گفتگو اور ترجمہ مطلوبہ معروف زبان میں کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی کوئی وقت ضائع کئے بغیر۔ جیسے اردو میں Vlog ہے اور اس کا ترجمہ آسانی سے انگریزی، فرانسیسی اور دیگر زبانوں میں ہوجاتا ہے۔ اس دور میں انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے، مگر ساتھ ساتھ بہت سے فساد جنم لے رہے ہیں۔ کتاب کی اہمیت ختم اور علم ودانش سے فیض حاصل کرنے کے راستے معدوم ہورہے ہیں۔ ہرکس وناکس اپنی زبان میں نہ جانے کیا کچھ کررہا ہے۔ جس سے دنیا میں انتشار اور بیہودگی، زیادہ پھیل رہی ہے۔ اس میں انسانیت کی خدمت کے پہلو دب رہے ہیں، عقل ودانش کو سمجھنا مشکل ہورہا ہے، تاریخ کو اپنے انداز میں موڑ توڑ کر بتایا جارہا ہے۔ تحقیق بھی ہورہی ہے اب یہ کیسے جانچا جائے کہ اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ ہے یا اس میں تاریخ کو مسخ کررہا ہے۔ ہر کوئی شخص اپنے زاویہئ نگاہ سے بول رہاہے اور بولے ہی چلا جارہا ہے۔
اکیسویں صدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا دور ہے اور چین کے صدر شی جن پینگ کا دعویٰ ہے کہ یہ صدی چین کی ہے جس میں آرٹیفشل انٹیلی جنس کو فروغ دیا جارہا ہے اور دیگر ایسی ٹیکنالوجیز آرہی ہیں اور چین ان ٹیکنالوجیز پر زیادہ کام کررہا ہے۔ برطانیہ کے مشہور جریدے “The Economist” نے چین کو سائنسی سپرپاور مانا ہے اور اپنے سرورق پر اس کی یہ اسٹوری چھپی ہے۔ آئندہ کی جنگوں میں انسانوں کی بجائے روبوٹ جنگ میں حصہ لیں گے۔ پھر سائبر ہے، یہ ملکوں کے ہتھیاروں کو منجمد کرے گا، بینکنگ سیکٹر کو کنٹرول اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کیا جا سکتا ہے، اسی وجہ سے دنیا اس وقت ایک بے یقینی کے دور سے گزر رہی ہے، کہا جارہا ہے کہ 2025ء جنگوں کا سال ہے۔ مگر ہمارا خیال ہے کہ دنیا کے لیڈر ہوش کے ناخن لیں گے اور ایٹمی جنگ سے بچتے ہوئے چھوٹی یا بڑی جنگیں کرلیں مگر شاید عالمی جنگ سے دنیا کو بچا لیں گے۔
پھر بھی یہ سوال ضرور سامنے رہے گا کہ یہ صدی کس کی ہوگی۔ اس پر امریکا کہتا ہے انیسویں اور بیسوی صدی امریکا کی تھی تو اکیسویں صدی بھی امریکا کی ہی ہوگی۔ امریکا کے صدر جوبائیڈن نے 2024ء میں ہی شی جن پنگ سے کہا کہ وہ آرٹیفیشل ٹیکنالوجی میں امریکی سائنسدان تندہی سے کام کررہے ہیں اور ٹیکنالوجی کی 159 یونیورسٹیاں اس پر کام کررہی ہیں جبکہ چین کی صرف 29 یونیورسٹیز میں اس پر کام ہورہا ہے۔ تو چین کیسے دعویٰ کرسکتا ہے کہ یہ صدی ان کی ہوگی۔ ایسا باکل نہیں ہے اور اکیسویں صدی کی ترقی بھی امریکا کے نام رہے گی۔ اگرچہ یورپین عوام، دانشوروں اور یونیورسٹی کے پروفیسروں اور میڈیا کے لوگوں کا اتفاق ہے کہ چین سائنسی اور ٹیکنالوجیز میں امریکا سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تاحال ان کا یہ خیال ہے کہ چین امریکا سے یا ان جدید ٹیکنالوجیز میں  آگے بڑھ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز ہیں کیا؟ ان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Artificial Intelligence)، کوانٹم کمپیوٹنگ (Quantum Computing)، بورڈ پر کمپیوٹنگ (Edge Computing)، جدجد مواد (Advance Materials)، بائیو ٹیکنالوجی (Bio Technology)، میجورا ہیومن (Human Enhancement)، بلاک چین ٹیکنالوجی (Block Chain Technology)، فائیو جی اور سکس جی (G-5/G-6)، انٹرنیٹ آف تھنگز (Internet of Things) اور روبوٹکس (Robotics) شامل ہیں اور دیگر ٹیکنالوجیز نئی ٹیکنالوجی کے زمرے میں آتی ہیں اور اس کی ترقی پر ہی دنیا پر بالادستی کا خیال ابھرے گا۔ پاکستان اس ٹیکنالوجیز میں کسی مقابلے کی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔ البتہ وہ مناسب طور پر اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس طرح اس نے 27 فروری 2019ء کو انڈیا کے حملے، 26 فروری 2019ء کے حملے کے جواب میں کیا، انڈیا کے سارے ریڈار منجمد کرکے ان کے جہاز مگ 29 اور سخوئی 30 گرائے اور ان کا ایک پائلٹ بھی پکڑ لیا۔ پاکستان فضائیہ میں بھی ان ٹیکنالوجیز کو استعمال کررہا ہے تو بحریہ میں بھی اور بری افواج میں بھی اپنا دفاع کو مضبوط سے مضبوط بنا رہا ہے۔ روزمرہ کے استعمال میں ان ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنے کی مناسب کوشش کررہا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ چین اور امریکا کے درمیان جاری ہے، غالب امکان یہی ہے کہ چین اس دوڑ میں کامیاب ہوجائے گا اور اکیسویں صدی چین کی ہی ہوگی۔

مطلقہ خبریں