سیکنڈ ایٹمی اسٹرائیک صلاحیت کی اصطلاح دوسرے ایٹمی حملہ کی صلاحیت کیلئے استعمال ہوتی ہے جیسے کوئی ملک ایٹمی طاقت تو بن جائے مگر اُس کے بعد دوسرے حملے کی صلاحیت موجود نہ ہو، تو ایٹمی طاقت بے معنی ہوجاتی ہے، اس لئے کہ دشمن اس کو حملہ کرکے نیست و نابود کرسکتا ہے۔۔۔
نصرت مرزا
سیکنڈ ایٹمی اسٹرائیک صلاحیت کی اصطلاح دوسرے ایٹمی حملہ کی صلاحیت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ جیسے کوئی ملک ایٹمی طاقت تو بن جائے مگر اُس کے بعد دوسرے حملے کی صلاحیت موجود نہ ہو، تو ایٹمی طاقت بے معنی ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ دشمن اس کو حملہ کرکے نیست و نابود کرسکتا ہے۔ دشمن اس وقت خوف کھاتا ہے جب اس کو یہ معلوم ہو کہ اگر اس نے ایٹمی حملہ کیا تو جواب میں حملہ زدہ ملک میں اگر زمین پر کچھ نہ بچے تو سمندر سے حملہ آور ہو کر اس ملک کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔
اس لئے دشمن کو خوف میں مبتلا رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایٹمی ملک کے پاس دوسرے حملے کی صلاحیت ہونا چاہئے اور دشمن کو یہ باور بھی کرانا چاہئے کہ اگر اس نے حملہ کیا تو بھی نہیں بچے گا۔ اس طرح حالت خوف میں رہ کر ایٹمی حملہ کی جرأت نہیں کرسکتا، اگر کرے تو یہ پاگل پن ہوگا۔ اسے انگریزی میں MAD کہتے ہیں۔ Mutual Assured Destruction کا موقفف ہے۔ حملہ آور نے دشمن کو تباہ کرنے اور اپنے آپ کو بھی تباہ کرنا یقینی بنا لیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اور انڈیا کے پاس دوسرے ایٹمی حملے کی صلاحیت موجود ہے؟ پاکستان میں بعض صحافی خصوصاً ایک معروف صحافی وسیاستدان اور اینکرپرسن محترم نجم سیٹھی صاحب انہیں یقین نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹی وی شو میں کہا کہ پاکستان چین کو گوادر کی بندرگاہ اپنا اڈہ بنانے دے تو چین اس کو ایٹمی آبدوز بنا کر دے دے گا۔ میرے خیال میں اگر کسی ایٹمی معاملات کے بارے میں علم نہ ہو تو ان کو اس پر بات نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اس سے غلط پیغام جاتا ہے اور اگر سیٹھی صاحب کہیں تو عوام درست مان لیتے ہیں کیونکہ ان کی ”چڑیا“ مشہور ہوگئی ہے مگر ان کی ”چڑیا“ اس معاملے میں اپنے ”پَر“ جلا لے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کبھی کسی کو گوادر کی بندرگاہ اڈہ بنانے کے لئے نہیں دے گا۔ سب کو معلوم ہے کہ وزیراعظم فیروز خان کے دورِ حکومت میں یہ بندرگاہ پاکستان نے اومان سے قیمت ادا کرکے خریدی تھی۔ میری سردار محمد اکبر بگٹی سے ستمبر 2004ء میں ملاقات ہوئی اور بلوچستان پر بات ہوئی تو میں نے ان کو یہ بات یاد دلائی۔ اُن کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اگر پورے بلوچستان کی بات ہو تو بھی گوادر کی بندرگاہ پاکستان کی ملکیت ہے۔ ویسے تو سارا صوبہ ہی پاکستان کا ہے مگر بطور اہمیت کے میں نے ان کو باور کرا کر لاجواب کردیا تھا۔ وہ میرے باقاعدہ دوست بن گئے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان چین سے پہلے میزائل بنا رہا تھا۔ جب امریکا نے اسامہ بن لادن کے افغانستان میں کیمپ پر 20 اگست 1998ء کو حملہ کیا تو اس وقت جنرل اینتھونی زنی سینٹرل کمانڈر کے سربراہ وہ ہمارے چیف آف دی آرمی اسٹاف کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، یہ بتا رہے تھے کہ ہم بلوچستان کی فضائی حدود افغانستان پر حملہ کررہے ہیں۔ پاکستان اپنے اوپر حملہ کا تاثر نہ لے۔ اس حملے کے دوران دو کروز میزائل بلوچستان میں گر گئے۔ ایک میزائل صحیح وسالم تھا دوسرے کو تھوڑا نقصان پہنچا تھا۔ پھر پاکستان نے کروز بنائے اور 2005ء میں اس کا تجربہ کیا تو جب یہ خبر آئی تو میں میاں محمد نوازشریف سابق وزیراعظم کے پاس بیٹھا تھا، وہ بہت پُرجوش اور جذباتی ہوگئے، مجھ سے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم یہ فیصلہ میں نے یعنی میاں نوازشریف نے کیا تھا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ میرے دستخطوں سے ہوا۔ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے اور ان کو پوری روداد سنائی تو انہوں نے کہا ”لو آپ کو سب معلوم ہے“۔ میں نے یہ ساری روداد ایک مشہو اخبار میں شائع شدہ کالم میں لکھ دی ہے اور اکثر پاکستانی وطن عزیز کی صلاحیتوں کے بارے میں شبہ میں مشتبہ ہی رہتے ہیں جو ان کی احساس کمتری کا اظہار ہے۔
اس کے علاوہ اب چین بہت بڑی طاقت بن گیا مگر ہم نے چین کی جو مدد کی ہے اس کو چینی آج بھی نہ بھلا سکے ہیں اور نہ نظرانداز کرسکتے ہیں۔ ان رازوں کا افشاں تو نہیں کیا جاسکتا ہے۔ البتہ صرف یہ کہنا کافی ہے کہ امریکا ہم سے اس بات پر بھی ناراض ہے کہ چین کی اس قدر مدد کیوں کی۔ میاں نوازشریف صاحب نے اس وقت مجھ سے درخواست کی یہ چیز چھپوا دوں کہ کروز میزائل پروگرام انہوں نے شروع کیا تھا۔ چنانچہ میں نے مدینہ منورہ میں خبر بنا کراس وقت کے مشہور اخبار میں بھیجی جو پہلے صفحہ پر چھپ گئی اور میاں صاحب نے فون پر میرا شکریہ ادا کیا۔
جہاں تک دوسرے ایٹمی صلاحیت کی بات ہے تو ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے اور ”بابر“ میزائل بھی ایٹم بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہماری دوسرے حملے کی صلاحیت سمندری آبدوز سے بھی ہے اور زمین سے تو موبائل گاڑی سے بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ اب کیسے معلوم ہو کہ ہمارے ایٹمی ایندھن سے چلنے والی آبدوز ہے کہ نہیں اس کا پرچار پاکستان نے نہیں کیا اور نہ ہم کررہے ہیں۔ البتہ یہ بات ہم شرح صدر سے کہتے ہیں کہ یہ صلاحیت ہمارے پاس موجود ہے۔ دشمن کو بھی معلوم ہے اور دنیا کو بھی معلوم ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی:
جانے نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
یہ درست ہے کہ چین سے آٹھ آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ 2017ء میں ہوگیا۔ رابطہ فورم انٹرنیشنل کی طرف سے منعقد 21 مارچ 2015ء ایک کانفرنس میں وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی مرحوم جو اس وقت پاکستان بحری فلیٹ کے کمانڈر تھے انہوں نے انڈیا کی طرف سے آنے والی پہلی آبدوز کو دیکھ لیا تھا، دوسرے معنوں میں اسے پکڑ لیا تھا۔ انہوں نے مجھے اس معاملے کی تفصیل بتائی اور جب میں نے استقبالی خطاب میں یہ کہا کہ چین ہمیں آٹھ آبدوزیں دے رہا تھا تو انہوں نے فوراً کہا کہ دے نہیں رہا بلکہ ہم خرید رہے ہیں۔ جن میں سے چار پاکستان میں بنیں گی۔ یعنی کراچی شپ یارڈ میں اور چار چین میں۔ مزید براں میں قارئین کرام کی خدمت میں یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس Full Spectrum Deterrauce کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ اصطلاح یہ بتاتی ہے کہ ہمارے ہر قسم کے ہتھیار و آلات، میزائل، سیٹلائٹ اور ایٹم بم موجود ہیں جو دشمن کو حالت خوف میں رکھیں، ان کے لئے یہ ڈراوا اتنا شدید ہے کہ انڈیا نے ایٹمی ایندھن سے چلنے والی کئی آبدوزیں بنا لی ہیں اور بھی تیار کررہا ہے۔ ہمارا ”شاہین تھری“ میزائل کی اتنی دھوم ہے کہ امریکا نے اس پر قدغن لگا دی۔ ہمارے میزائلوں اور ہتھیاروں کی مار سے انڈیا کا کوئی گوشہ محفوظ نہیں۔ اگر ہمیں چھیڑا گیا تو یہاں تک کالا پانی جیسے انڈمان اور نکوبار جزائر جہاں انڈیا نے ایٹمی ہتھیار چھپا کر رکھے ہیں وہ بھی ”شاہین تھری“ کی زد میں آتے ہیں۔ سمجھانے کے لئے یہ کافی ہوگا کہ پاکستان کے عوام 27 فروری 2019ء کو یاد رکھیں کہ پاکستان نے 26 فروری 2019ء کے جواب میں جو حملہ کیا تھا جس میں انڈیا کے ریڈار منجمد کردیئے تھے اور ان کے دو جہاز، مگ 29 اور سخوئی 30 گرائے اور خود انڈیا نے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو پاکستان کا سمجھ کر مار گرایا تھا۔ ان کو دوست دشمن کی پہچان بھلا دی تھی۔ اب جنگ مزید جدید ہوگئی ہے، ممکن ہے کل جنگ روبوٹ لڑیں۔ آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور دیگر جدید ٹیکنالوجی آگئی ہیں جو کسی نئی جنگ میں استعمال ہوگی اور دنیا حیرت میں مبتلا ہوجائے گی اور پاکستان ان صلاحیتوں سے بہرہ ور کرنے میں بھی لگا ہوا ہے۔