Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

یوم پاکستان اور قائداعظم

پاکستان کا قیام مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان صرف اور صرف نظریاتی تفاوت کی بنیاد پر ہوا

محمد نفیس دانش

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یومِ پاکستان محض ایک دن نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کی اساس کا دن ہے اور آج کے دن ہر شہری خود سے یہ عہد کرتا ہے کہ فقیدالمثال قربانیوں سے حاصل کردہ اس وطن کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان صرف اور صرف نظریاتی تفاوت کی بنیاد پر ہوا۔ 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں جب مولوی فضل حق نے قرارداد کے ذریعے آزاد اور خودمختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا تو اس میں واضح طور پر اس حقیقت سے پردہ اٹھانا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا جو خودمختار مملکت کا مطالبہ ہے اور جو نظریہ پاکستان پیش کررہے ہیں دراصل اس نظریہ پاکستان کی اساس نظریہ اسلام ہی ہے۔ دنیا کے نقشہ پر ریاست مدینہ کی تشکیل کے بعد الحمداللہ پاکستان دوسری ریاست ہے جو صرف نظریہ توحید کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے، اور اللہ کے فضل و کرم سے ایک وقت ایسا آئے گا جس میں اس ریاست کو نمونہ مدینہ ریاست بنا کر پیش کیا جائے گا۔
اگر ہم تاریخ پاکستان کا مطالعہ کرتے ہوئے تاریخ سے یہ سوال پوچھیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کیسا پاکستان چاہتے تھے تو تاریخ سرعام پکار پکار کر یہ کہتی ہوئی نظر آئے گی کہ حضرت قائدِاعظم نے پاکستان کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ ’’پاکستان ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست ہوگی جہاں عوام کو بنیادی حقوق، شخصی آزادی اور جان و مال عزت و آبرو کا تحفظ حاصل ہوگا۔‘‘ لیکن کبھی کبھار مجھے خود بہت افسوس ہوتا ہے اس بات کا کہ آج عوام سیاسی جماعتوں کے منشور اور نعروں کی خوشحالی، تبدیلی اور ترقی کے خوشنما دعوے اور نعرے سنتے ہیں لیکن ان کی حالت آج تک نہیں بدل سکی اور ہم نے اس پیغام کے برعکس مفاد پرستی کی جنگ میں انتشار اور مفاد پرستی کی دوڑ میں ناصرف قوم کو سندھی، بلوچی، پٹھان، پنجابی، سرائیکی اور مہاجر دھڑوں میں بانٹ کر کمزور کر دیا بلکہ لالچ اور خودغرضی کی جنگ میں اتنے آگے نکل گئے کہ قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد کو ہی فراموش کر ڈالا۔ ہماری انہی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمیں ہر محاذ پر نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کی سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا۔
23 مارچ کو پورے پاکستان میں اس دفعہ بھی اہل وطن پورے جوش و خروش سے منائیں گے اور اپنے ان اکابرین کو خراجِ تحسین پیش کریں گے جنہوں نے ہندوؤں کی عیاری اور مکاری کو سمجھتے ہوئے ایک آزاد مملکت حاصل کرنے کا مطالبہ کیا اور اسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی ریاست معرضِ وجو د میں آئی۔ اسی طرح ہماری مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں ملک کی سلامتی، ترقی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی۔ اس عظیم دن کے موقع پر بھی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے آہ و فغاں کو بھلا کیسے بھول سکتا ہوں جس کے بارے میں ہمارے حضرت قائدِاعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ’’یہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے‘‘ اور شہہ رگ کا کہنے کا مطلب سورج کی طرح عیاں ہے، جس طرح انسانی جان کیلئے شہہ رگ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، بالکل اسی طرح پاکستان کی حفاظت کیلئے کشمیر کی اہمیت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کو دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کیلئے بھارت نت نئے حربے استعمال کرکے دشمنی اور اجارہ دری کی مستقل پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم نے قائداعظم کی امانت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور پاکستان کی تکمیل اور کشمیر کو پاکستان کی حقیقی شہہ رگ بنانے کے لئے ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ پاکستان کی تکمیل تب ہوگی جب کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پاکستان کی تکمیل اس وقت ہوگی جب ہم پاکستان کو ایک مثالی اسلامی، فلاحی ریاست بنانے کیلئے تمام تر مفادات، اقرباپروری اور ذاتی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر ایک قوم بن جائیں گے۔ تمام نسلی، لسانی، مذہبی اور علاقائی تعصبات کا خاتمہ ہوگا۔ ملک سے دہشتگردی، لا قانونیت اور استحصال کا خاتمہ ہوگا۔ اس موقع پر میں اپنی مسلم قوم کو یہی پیغام دوں گا کہ قرارداد پاکستان ہم سب مسلمانوں کے لئے ایک عظیم نعمت اور ایک تحفہ ہے۔ اگر اس تحفے کی حفاظت کے لئے ہم سب پاکستانی ایک عہد کرلیں تو ہر دشمن ہماری پیاری سرزمین پر حملہ تو کیا اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے بھی سو بار سوچے گا۔ ایک عہد کریں! ہم پاکستان کو ایمان، اتحاد اور تنظیم کے رہنما اصولوں کی روشنی میں چلائیں گے۔ ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی و اسلامی ریاست بنائیں گے۔ ہم پاکستان میں نظام قرآن و سنت کو عملی طور پر نافذ کریں گے۔ ہم پاکستان کو غیروں کی غلامی سے آزاد کروائیں گے۔ ہندو کلچر اور اس کی روایات کو فروغ دینے والوں کے خلاف جہاد کریں گے۔
یوم پاکستان، تجدید عہد وفا کا دن ہے۔ اس ملک کو سنوارنے کی ذمے داری صرف حکومت اور سرحد پر ہماری حفاظت کرنے والے بہادروں کی نہیں ہے۔ ہم سب کی ذمے داری ہے کہ اس ملک کی ترقی اور حفاظت کے لئے لایعنی قسم کے اختلافات بھلا کر اتحاد و یگانگت کی ایسی مثال قائم کریں کہ دشمن ممالک ہمارے خلاف سازشوں کا سوچ بھی نہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس پاک وطن کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین ۔

پاکستان زندہ باد

مطلقہ خبریں