Thursday, April 3, 2025
- Advertisment -
Google search engine

حالیہ پوسٹس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کا عالمی اثر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے دورِاقتدار کی ابتدا میں ایک نئے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ ان کے اقدامات اور فیصلے سے دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہورہاہے۔ مشرق وسطیٰ کے معاملے میں نیوغزہ کا سفاک منصوبہ اتنی آسانی سے بیان کردیا کہ دُنیا حیران رہ گئی، تجزیہ کار پریشان ہوگئے کہ کیا یہ قابل عمل ہے۔ امریکی ترجمانوں نے صفائی پر صفائیاں پیش کرنا شروع کردیں، شاید ٹرمپ عالمی ردعمل دیکھنا چاہتے تھے اسی لئے کھل کر اظہار کردیا کہ غزہ کی جنگ اگرچہ اسرائیل نے لڑی لیکن اس پر قبضہ امریکا کرے گا کیونکہ یہاں سے نہرسوئز کا متبادل سمندری راستہ نکالنا ہے۔ عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب نے بھی منصوبے کو سنگین قرار دیا۔ امریکا کے دیرینہ اتحادی اردن اور مصر نے کھل کر مخالفت کردی کیونکہ غزہ کے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو انہی دو ملکوں میں آباد کیا جانا ہے، دونوں ممالک جانتے ہیں کہ اگر غزہ میں امریکی قبضہ ہوا تو بات یہاں نہیں رکے گی۔ اردن اور مصر کے علاقے بھی مستقبل میں امریکا اور اسرائیل کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ بہرحال شدید عالمی ردعمل پر امریکا کو منصوبے سے پیچھے ہٹنا پڑا، لیکن جب امریکی صدر نے اس کا اعلان کیا ہے تو اس کے پس پردہ کئی سالوں سے منصوبہ بندی کی جارہی ہوگی اور عرب ممالک کمزور پڑتے گئے تو یہ منصوبہ قابل عمل بھی ہوجائے گا۔ اقوام متحدہ چیخنے چلانے اور مذمت کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکے گا۔ مقبوضہ کشمیر کی مثال سامنے ہے، 5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی۔ ساڑھے 5 سال گزرنے کے بعد بھی معاملہ جوں کا توں ہے۔ عالمی سطح پر خاموشی ہے اقوام متحدہ کا کام صرف مذمت کرنے تک کارہ گیا ہے۔ یہی کچھ غزہ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسرا ہیجان یورپ کے لئے پیدا کیا ہے۔ روس/یوکرین جنگ کو بے مقصد قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 3 سال سے بے مقصد جنگ جاری ہے۔ یوکرین امریکی خرچے پر روس سے لڑ رہا ہے۔ 3 سال میں 250 ارب ڈالر امریکا کے خرچ ہوگئے۔ یوکرین یہ سرمایہ واپس کرے۔ ٹرمپ نے زیلنسکی کو ڈکٹیٹر بھی قرار دیا اور جنگ شروع کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ دراصل امریکی صدر یوکرین کے معدنی ذخائر کے معاہدے کے لئے زیلنسکی کو دباؤ میں لانا چاہتے تھے، لیکن یوکرینی صدر نے بھی خوب جواب دیا کہ اپنے ملک کا سودا نہیں کروں گا، لیکن بالآخر انہیں سرنگوں ہونا ہی پڑے گا۔ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کے لئے بھی امریکی آشیرواد کی ضرورت ہے۔ نیٹو میں شامل کرنے پر زیلنسکی اقتدار سے علیحدہ ہونے کے لئے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے یورپ سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج تشکیل دے۔ واشنگٹن کے معاملے میں عملیت پسندی کا مظاہرے کرے یعنی عسکری لحاظ سے یورپ اپنی طاقت منوائے امریکی دباؤ سے باہر نکلے۔ روس کو بھی اس جنگ سے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ اگرچہ اس کے تیل وگیس کی تجارت بڑھی ہے لیکن امریکا نے OPEC سے مطالبہ کیا تھا کہ تیل کی قیمتیں کم کرے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے سے روس کے تیل کی آمدنی کم ہوگی۔ روسی معیشت دباؤ میں ہے کیونکہ جنگ کے باعث رواں سال روس کے مجموعی بجٹ کا 41 فیصد دفاع اور سیکیورٹی پر خرچ ہوگا۔ گزشتہ 10 سال میں روسی دفاعی بجٹ کی آمدنی کا ایک تہائی سے نصف حصہ تیل کی برآمدات سے حاصل ہوتا آرہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد کہا تھا کہ جنگ روس کو تباہ کررہی ہے۔ اگر روس جنگ ختم نہیں کرتا ہے تو اس پر مزید تجارتی پابندیاں لگیں گی۔ روس /یوکرین جنگ میں دونوں ملکوں کے 60 ہزار سے زائد شہری وفوجی مارے جاچکے ہیں۔ روسی صدر معاشی دباؤ میں ہیں۔ جنگ بندی کرنا ان کی بھی مجبوری ہے۔ دراصل یورپ روسی تیل وگیس کے لئے ایک بڑی منڈی ہے، جس پر امریکا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ امریکی صدر صاف کہہ چکے ہیں کہ اگر کریملن جنگ بندی پرآمادہ نہیں ہوتا ہے تو امریکی تیل و توانائی کے وسائل یورپ کے لئے بڑھا دیئے جائیں گے، جس سے یورپ کا روسی تیل وگیس پر انحصار ختم ہوجائے گا۔ ٹرمپ کی اس دھمکی کا روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مثبت جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ بندی اور دیگر اختلافی مسائل پر مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے افغانستان کے معاملے پر بھی چونکا دینے والا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ واپس لیں گے، جوبائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کی ناقص منصوبہ بندی کی تھی، اربوں ڈالر کا امریکی اسلحہ و فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑنا بدترین غلطی تھی۔ 70 ہزار بکتربند اور فوجی گاڑیاں افغانی فروخت کررہے ہیں۔ 7 لاکھ 77 ہزار رائفلز افغانیوں کے ہاتھ لگے جسے وہ بیج رہے ہیں۔ 2021ء سے 2025ء تک افغان فورس کو 18 ارب 60 کروڑ ڈالر کا دفاعی سامان دیا گیا جس میں طیارے اور مواصلاتی نظام بھی شامل ہیں۔ یہ سب سرمایہ امریکی عوام کا ہے، جسے افغان عبوری حکومت سے واپس لیا جائے گا۔ امریکی صدر کا یہ اعلان کابل کے لئے پریشانیاں لائے گا۔ امریکی صدر نے کینیڈا کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا کیونکہ ان کے مطابق کینیڈا اور میکسیکو سے منشیات کی اسمگلنگ امریکا میں کی جارہی ہے۔ فینٹانائل نامی نشہ آور دوا کی غیرقانونی درآمدات کو روکنا ہوگا۔ کینیڈا کے دفاعی معاملات کو بھی امریکا دیکھتا ہے۔ کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن جائے امریکی صدر کے بیان پر کینیڈین وزیراعظم نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیرف بڑھانے سے امریکی معیشت کو نقصان ہوگا، فینٹانائل کا ایک فیصد کینیڈا سے امریکا جاتا ہے۔ غیرقانونی تجارت روکنے کے لئے سرحدی نگرانی کو مزید سخت کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے ٹیرف بڑھانے کی دھمکی سے دونوں ملکوں کی تجارت پر منفی اثر پڑے گا۔ امریکا نے ٹریف بڑھایا تو کینیڈا بھی جواباً ایسا ہی کرے گا۔ امریکی صدر کے جارحانہ بیانات سے دنیا میں ہلچل ہے۔ انہوں نے چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں مزید 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا کہا ہے جسے چین نے احمقانہ فیصلہ قرار دیا۔ دونوں ملکوں کے باہمی تجارت پر اس کا منفی اثر پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سطح پر ایسے اقدامات کررہے ہیں جس سے بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں تشویش بڑھ رہی ہے کیونکہ دنیا کے کئی ملکوں کے ٹکڑے ہوسکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں 1945ء کی طرح مختلف خطوں کی ری برتھ ایجنڈے کو عملی جامہ پہننانے کے لئے مشاورت کررہی ہیں۔ 18 فروری کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ بیٹھک لگائی۔ بظاہر تو مشرق وسطیٰ اور روس/یوکرین جنگ اس کا محور تھے لیکن بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ Yelta کانفرنس جیسی بیٹھک ہوسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اہم میٹنگ میں چین کو نہیں شامل کیا گیا۔ امریکا اور روس چین کو عالمی فیصلوں سے باہر رکھنا چاہ رہے ہیں۔ جیسے 1945ء کی کریمیا کے علاقے Yelta میں دنیا کے فیصلے کئے جاتے وقت اس وقت کی بڑی طاقت جرمنی کو علیحدہ رکھا گیا تھا۔ 18 فروری کو سعودی عرب کی ثالثی میں امریکی وروسی وزیرخارجہ کی میٹنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں کئے گئے فیصلے وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ مشرق وسطیٰ کے ساتھ جنوبی ایشیا کے لئے بھی اہم فیصلے کرلئے گئے ہیں۔ اب عالمی طاقتیں چھوٹے ملکوں سے بارگینگ کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گی کیونکہ بڑوں کے کئے گئے فیصلے کے نقصانات چھوٹے ملکوں کے حصے میں آئیں گے جبکہ اس کا ثمر بڑے ممالک اپنے دامن میں سمیٹیں گے۔

مطلقہ خبریں